تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 144
تاریخ احمدیت۔جلد 24 144 سال 1967ء تعلیم الاسلام سنڈے سکول کا پہلی بار معا ینہ حضور نے ۳۰ جولائی کی صبح کو تعلیم الاسلام سنڈے سکول لنڈن کا معاینہ فرمایا۔معائنہ کے وقت حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی حضور کے ہمراہ تھے۔یہ سکول جماعت احمد یہ ساؤتھ آل نے ۱۹۶۶ء میں جاری کیا تھا۔تا کہ احمدی بچوں کی صحیح تربیت ہو سکے۔اور اُن کو اسلامی ماحول میں تعلیم دی جا سکے۔جلسہ سالانہ انگلستان سے پُر معارف خطاب 122- ساڑھے تین بجے وانڈ زورتھ ٹاؤن ہال میں انگلستان کی احمدی جماعتوں کا چوتھا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔جس میں ایک ہزار کے قریب شمع خلافت کے پروانوں نے شرکت کی۔سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے اس موقع پر پر معارف خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری انگلستان کی جماعت احمدیہ پاکستان اور ہندوستان کے بعد سب سے بڑی جماعت (اردو بولنے اور سمجھنے کے لحاظ سے) ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آج اپنے بھائیوں سے ذرا تفصیلی گفتگو کروں اور ابتدا ہی سے جو باتیں وقوع پذیر ہوئیں ان کا ذکر کروں۔آپ سب جانتے ہیں کہ ۸ نومبر ۱۹۶۵ء کو جماعت پر کیا قیامت گزری۔وہ جو ہمارا پیارا تھا جس نے ۵۲ سال تک ہماری تربیت کی تھی۔ہمارے لئے دُکھ اُٹھانے والا ، ہماری خاطر راتوں کو جاگنے والا ، جس نے ہمارے لئے ہر قسم کی جانی و مالی قربانیاں دی تھیں۔جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے رنگ میں ہم میں قائم کیا تھا وہ الہی منشاء کے مطابق اپنے محبوب اللہ کے پاس بلا لیا گیا۔اور جماعت کے ہر فرد نے یہ سمجھا کہ ہمارے سہارے ٹوٹ گئے ہیں اور ہر دل نے یہ بھی یقین کر لیا کہ ایک اللہ تعالیٰ کا سہارا نہیں ٹوٹا اور نہیں ٹوٹ سکتا۔وہ دن ہمارے لئے قیامت سے کم نہیں تھا۔لیکن ہم نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ہم اس کی رضا پر راضی ہوئے۔ہم نے اس کے حضور یہ عرض کی کہ اے خدا دکھ تو بڑا پہنچا ہے مگر ہم تیری رضا اور مرضی پر خوش ہیں تو ہمیں اکیلا نہ چھوڑ یو۔ہر دل کی یہی صدا تھی اور دنیا کی نگاہ میں ایک نا قابل تسلیم بات ہمیں یہ نظر آئی کہ نجی کے بسنے