تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 142
تاریخ احمدیت۔جلد 24 142 سال 1967ء ذاتی طور پر میری طرف سے مبارکباد، محبت بھر اسلام اور دعا پہنچادیں۔مسجد نصرت جہاں کا افتتاح بلاشبہ ہماری تاریخ کا ایک عظیم واقعہ ہے۔لیکن ہمیں یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اب ہم پر اور بھی زیادہ گراں بہا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اور وہ یہ کہ آئندہ ہمیں اور بہت سی مساجد تعمیر کرنا ہیں اور اپنے حقیقی احمدی ہونے کا ثبوت دینا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔مرزا ناصر احمد ساؤتھ آل میں بصیرت افروز خطاب خليفة اح - 10 166 حضور نے ۲۹ جولائی ۱۹۶۷ء کولندن کی جماعت احمد یہ ساؤتھ آل کی دعوت عصرانہ میں شرکت فرمائی۔اس موقع پر انگلستان کے متعدد مقامات سے دو سو کے قریب احباب موجود تھے۔مکرم ناصر احمد صاحب پریزیڈنٹ جماعت احمد یہ ساؤتھ آل نے حضور کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا۔جس میں تمام جماعت کی طرف سے نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے جماعت احمد یہ ساؤتھ آل کی گزشتہ سال کی کارگزاری کا بھی ذکر کیا۔حضور نے اپنے بصیرت افروز خطاب کے پہلے حصے میں بتایا کہ مجھے اس جگہ اپنے بھائیوں سے مل کر اس قدر خوشی ہوئی ہے کہ اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔خدا تعالیٰ نے احمدیت کے رشتے سے ہمارے اندر ایک جذبہ اخوت پیدا کر دیا ہے۔جسے میں نے یہاں بھائی کے لفظ سے پکارا ہے۔مگر اپنے مقام کے لحاظ سے مجھے آپ سب اپنے بچوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔جس طرح پاکستان سے آنے والا ایک شخص اگر میں سال کے بعد اپنے بھائی سے ملے تو وہ چند گھنٹوں کے بعد اس سے بے تکلف ہو جاتا ہے۔اسی طرح ہمارے اندر چند گھنٹوں کے اندر بے تکلفی پیدا ہو جاتی ہے۔ڈنمارک، جرمنی ، فرانس، اٹلی، سپین، نائیجیریا، غانا، لیبیا، آئیوری کوسٹ، گیمبیا، سیرالیون، تنزانیہ، الجزائر ، یوگنڈا میں رہنے والے احمدی خواہ ایک دوسرے کی شکلوں سے واقف ہوں یا نہ ہوں۔ان کے دلوں میں بھائیوں جیسی محبت ہے۔شائد اس سے بھی زیادہ۔ایسی جو دو سگے بھائیوں میں بھی نہ ہو۔یہ احمدیت کا احسان ہے اس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔آپ کو بھی مجھے سے مل کر ایسی ہی خوشی ہوئی ہوگی۔اس بات کو سمجھنا دوسروں کے لئے مشکل ہے۔