تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 127
تاریخ احمدیت۔جلد 24 127 سال 1967ء کیا سلوک کیا جائے گا؟ ظاہر ہے کہ اس کے ساتھ اسی سطح پر اور وہی سلوک کیا جائے گا جو دیگر مذاہب کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے کیونکہ ڈنمارک میں مکمل مذہبی آزادی ہے۔البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس غیر ملکی مذہب کے بارہ میں عوام کا رد عمل کیا ہو گا؟ یہ امر محتاج بیان نہیں کہ ڈنمارک میں بڑی تیزی سے مسلمانوں کی ایک جماعت معرضِ وجود میں آچکی ہے اور جس رفتار سے مسجد کی تعمیر عمل میں آئی ہے وہ اس امر کی آئینہ دار ہے کہ ڈنمارک کی مسلم تحریک کے پیچھے پر عزم اور فعال دماغ کارفرما ہیں۔اس بات کو تو کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا کہ سارا ڈنمارک حلقہ بگوش اسلام ہو جائے گا۔لیکن کوپن ہیگن کے علاقہ وی ڈورا میں جس سرگرمی کا ثبوت منظر عام پر آیا ہے وہ اپنی وسعت کے لحاظ سے 104 766 اس نوعیت کی ہے کہ کلیسا اس موقف کا سہارا نہیں لے سکتا کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈنمارک میں جو پہلے بیرونی دنیا میں عیسائی مناد بھیجا کرتا تھا اب خود تبلیغی سرگرمیوں کی آماج گاہ بن چکا ہے۔یہ صورتحال ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے اور اس چیلنج کو بہر حال قبول کرنا ہوگا۔اگر وی ڈورا میں مسجد کی تعمیر سے چوکنا ہو کر کلیسا کا مقرر کردہ کمیشن سرگرمی سے مصروفِ عمل رہے اور آئندہ کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے میں کامیاب ہو جائے تو ہمارے اپنے نقطہ ء نگاہ سے بھی مسجد کی تعمیر بے فائدہ ثابت نہ ہوگی۔صرف ڈنمارک ہی سے سید کمال یوسف صاحب مبلغ سلسلہ نے حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی خدمت میں اس تاریخی دورہ کے متعلق ۶۴ ا کٹنگ ارسال کئے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان تمام ممالک کے اخبارات نے جہاں جہاں حضور نے قدم مبارک رکھا۔اس دورے کی کس قدر پبلسٹی کی اور حضور کے اس اہم پیغام کو کروڑوں افراد تک پہنچا دیا۔جس کے پیچھے خدا تعالیٰ کا تصرف خاص اور اُس کی آسمانی افواج کا نزول خاص طور پر کارفرما نظر آتا ہے۔حضور انور کا برقی پیغام 105 اسی روز ۲۱ جولائی کو حضور نے حضرت سیدہ ام متین صدر لجنہ اماءاللہ کے نام حسب ذیل برقی پیغام ارسال فرمایا:۔(ترجمہ) ”الحمد للہ مسجد نصرت جہاں کا افتتاح آج سوا ایک بجے بعد دو پہر عمل میں آیا۔اس مسجد کی تعمیر یورپ میں بالعموم اور ڈنمارک میں بالخصوص اسلام کی