تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 128
تاریخ احمدیت۔جلد 24 128 سال 1967ء ترقی اور غلبہ کے حق میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔میری طرف سے اور سکنڈے نیویا کے احمدیوں کی طرف سے لجنہ اماء اللہ کو مبارک پہنچادیں۔مسجد کی عمارت خوبصورت اور دیدہ زیب ہے۔افتتاح کی تقریب میں یورپ کے مبلغین اسلام ، احمدی احباب، غیر ملکی سفراء، ڈنمارک کی سر بر آوردہ ہستیوں اور شہریوں نے شرکت کی۔بعد ازاں پریس کانفرنس میں عالمی اخبارات کے نمائندے بہت کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے انٹرویو ریکارڈ کیا۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس مسجد کی تعمیر کو ہر لحاظ سے بابرکت کرے،اسے مثمر ثمرات حسنہ بنائے اور ہماری حقیر کوششوں کو اپنے فضل سے قبول فرمائے“۔مسجد کوپن ہیگن کے افتتاح کے بعد سرزمین یورپ میں جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے تعمیر ہونے والے خدا کے گھروں کی تعداد چھ ہو گئی۔قبل از میں تعمیر ہونے والے مساجد کی تفصیل یہ ہے:۔مسجد فضل لندن (سنگ بنیاد ۱۹ اکتوبر ۱۹۲۴ء) مسجد مبارک ہیگ (سنگِ بنیاد ۱۹۵۵ء ) مسجد فضل عمر ہمبرگ (سنگِ بنیاد ۲۲ فروری ۱۹۵۷ء) مسجد نور فرینکفورٹ (سنگ بنیاد ۱۹۵۹ء) مسجد محمود سویٹزر لینڈ (سنگ بنیاد ۲۵ را گست ۱۹۶۲-) حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا مکتوب 106 حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے ۲۲ جولائی ۱۹۶۷ء کوحضرت سیدہ ام متین صاحبہ کے نام افتتاح کے نہایت ایمان افروز کوائف پر مشتمل حسب ذیل مکتوب رقم فرمایا:۔کل بعد نماز جمعہ مسجد کا افتتاح مختصر تقریر اور دعاؤں کے ساتھ ہوا۔افتتاح بہت کامیاب تھا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے نمازی تو صرف تین صد سے اوپر تھے۔مگر زائرین سے سارا احاطہ بھرا ہوا تھا۔سینکڑوں کھڑے نظر آ رہے تھے، بعض ملکوں کے سفیر ،شہر کی چوٹی کی شخصیتیں اور عوام۔میرا خیال ہے کہ سینکڑوں نے چائے میں بھی شمولیت اختیار کی۔کھانے میں اللہ تعالیٰ نے اس قدر برکت ڈالی کہ پھر بھی کچھ بیچ ہی گیا۔صرف ایک شخص تھا جس نے کچھ نہیں کھایا یعنی خاکسار۔کیونکہ پریس انٹرویو میں پوری توجہ سے نمائندگان سے مخاطب تھا۔یہ پہلی جگہ ہے جہاں اخباروں نے