تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 126
تاریخ احمدیت۔جلد 24 126 سال 1967ء تاریخ میں ایسی ترقی سے صرف ایک دفعہ ہی ہمکنار ہوا تھا۔یہ بات ہے ازمنہ وسطی کی کہ جب عرب سائنس اور عرب آرٹ نے قدیم یونانی اور لاطینی روایات کا سہارا لے کر جنوبی یورپ کے وسیع حصوں پر اپنے اثر ونفوذ کے نقوش ثبت کئے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ جب سیاحوں نے عرب کی خوش حال سرزمین کے متعلق بہت کچھ لکھا اور اس سلسلہ میں بہت سی تصانیف معرض وجود میں آئیں۔وی ڈورا کی مسجد اُس مذہب کی جو عرب کی پسماندہ و خستہ حال سرزمین میں اب بھی زندہ ہے، بہت بعد میں پھوٹنے والی ایک چھوٹی سی شاخ کی حیثیت رکھتی ہے اس موجودہ وقت میں اللہ اور اس کے رسول کو یہاں پیر و حاصل کرنے میں بہت وقت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔“ نوٹ :۔روز نامہ مذکور کا مندرجہ بالا ایڈیٹوریل وہاں کے ایک اور اخبار SVENDBORG AVIS کے ۲۴ جولائی ۱۹۶۷ ء کی اشاعت میں بھی شائع ہوا۔# LOLLANDS TIDENDE ۲۵ جولائی ۱۹۶۷ء کے شمارہ میں لکھتا ہے کہ:۔کلیسیا کے لئے قابل توجہ آج مسلمانوں کا مذہب یعنی دین اسلام ڈنمارک میں پھیلایا جارہا ہے کو پن ہیگن کے علاقہ وی ڈورا میں پہلی مسجد تعمیر ہو چکی ہے اور اس کا افتتاح بھی عمل میں آچکا ہے۔ایک ایسے وقت میں جب کہ خود ڈنمارک کے کلیسا نے اپنے داخلی حالات کا جائزہ لینے اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کی غرض سے با قاعدہ ایک کمیشن مقرر کر رکھا ہے اس مسجد کا نوٹس لینا اور اسے قابل اعتناء سمجھنا خالی از دلچسپی نہ ہوگا۔عیسائیت ڈنمارک میں ایک ہزار سال سے بھی زائد عرصہ سے قائم چلی آرہی ہے اور یہاں ایسے مناد ( مرد بھی اور عورتیں بھی) موجود ہیں جنہوں نے ایسے ممالک میں عیسائیت کا پیغام پہنچایا ہے جہاں اسلام مذہب کی حیثیت سے بہت مقبول ہے۔لیکن آج صورت حال مختلف ہے اب خود ڈنمارک میں اسلام اور عیسائیت کے درمیان مقابلہ کی طرح پڑ چکی ہے۔کلیسا کی اصلاحی تنظیم کو جسے داخلی مشن کے نام سے موسوم کیا جاتا رہا ہے۔آئندہ اس داخلی مشن کو خود اپنے ہی گھر میں کلیسا اور مسجد کی باہمی مخالفت کی شکل میں نئی سرگرمی اور جدو جہد کا مظاہرہ کرنا ہوگا وہ ممالک جن میں ہم اپنے منا بھیجا کرتے تھے اب جواباً ہمارے ہاں منا ذ بھیج رہے ہیں اور ہمارا قرض چکانے پر تل گئے ہیں۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اب حالات بدلے ہوئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اس غیر ملکی مذہب اور اس کی تعلیم کے ساتھ