تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 125 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 125

تاریخ احمدیت۔جلد 24 125 سال 1967ء ہے جنہوں نے ڈنمارک میں پہلی مسجد کی تعمیر کو چنداں اہمیت نہ دیتے ہوئے اس امکان کو خارج از بحث قرار دیا کہ اسلام ڈنمارک میں وسیع پیمانے پر پھیل سکتا ہے۔اسی پر بس نہیں اُس نے اِس موقعہ پر اسلام پر ناروا حملے کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھا اس اخبار نے اپنے ۲۲ جولائی ۱۹۶۷ء کے شمارہ میں حسب ذیل نوٹ سپر دا شاعت کیا : وی ڈورا کی مسجد اسلام کی ایک چھوٹی سی شاخ اس ملک میں بھی موجود ہے۔اس حقیقت کی واحد ظاہری علامت وی ڈورا کی نوتعمیر شدہ مسجد ہے۔یہ باور کرنے کی ضرورت نہیں کہ مستقبل میں عرب کا یہ قدیمی مذہب یہاں بھی وسیع پیمانہ پر پھیل جائے گا۔اس مسجد کو اپنے مذہبی امور کی سرانجام دہی سے قطع نظر بہر طور یہ اہمیت ضرور حاصل ہے کہ یہ واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ اس ملک میں مذہبی آزادی کا دور دورہ ہے۔مغربی دنیا مذہب کے معاملہ میں عربوں کی ممنون احسان نہیں ہے۔یہاں سب سے پہلے عیسائیت ہی آئی اور وہی آج کے دن تک یہاں غالب ہے اور اس طرح غالب ہے جس طرح کہ مشرق قریب میں اسلام کو غلبہ حاصل ہے۔ہر شخص جانتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے خود اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ اُن کا بہت کچھ مدار یہودی اور عیسائی مذاہب پر ہے۔لیکن یہ بتادینا ضروری ہے کہ بعد میں جو حالات رونما ہوئے وہ دونوں مذاہب (اسلام اور عیسائیت ) کے نقطہ نظر سے مختلف اور متضاد نوعیت کے حامل تھے۔عیسائی دنیا میں ارادہ اور اختیار کی آزادی غالب آتی چلی گئی۔برخلاف اس کے اسلامی دنیا میں شروع ہی سے بڑی حد تک یا کسی حد تک تقدیر اور جبر کا پہلو غالب رہا ہے۔اس تصور نے مسلمان ملکوں اور مسلمانوں پر اثر انداز ہونے میں اِس درجہ نمایاں کردار ادا کیا ہے کہ جس کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں۔وجہ اس کی یہ ہے کہ قرآن کو گویا مسلمانوں کے نزدیک ابتداء ہی سے معاشرتی اور سیاسی بائبل کی حیثیت حاصل رہی ہے۔لفظاً ومعنا تقدیر کے قائل اس مذہب نے عرب ممالک کو پسماندہ رکھنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔اس کے بالمقابل دور جدید کے اسرائیل کی مثال ہمارے سامنے ہے۔اس نے اس نقطہ کو سمجھ لیا کہ ملک کے ترقیاتی کاموں کو مذہب سے بے تعلق رکھنا ضروری ہے۔اسلام اپنی