تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 124 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 124

تاریخ احمدیت۔جلد 24 124 سال 1967ء ایک محدود تعداد اس کے علاوہ ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ جماعت اپنے پھیلاؤ کے لحاظ سے ڈنمارک کے درمیانہ درجہ کے گھروں کے رہنے والے متوسط طبقہ کے مکینوں کی کسی ایسوسی ایشن سے بڑی نہیں قرار دی جاسکتی ہے۔اور یہ تقابل یہاں پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔ہر چند کہ اس امر کے کوئی آثار نہیں ہیں کہ اس مسجد کی تعمیر کی وجہ سے جو سکنڈے نیویا کی سب سے پہلی مسجد ہے۔اس ملک میں اسلام قبول کرنے کی ایک روچل پڑے گی۔تاہم موجودہ زمانہ میں مذہب سے کھچاؤ اور دوری اور دنیا میں رونما ہونے والی دور رس تبدیلیاں روحانی بگاڑ کی ایک واضح علامت ہیں۔اور غالباً اسی امر کے پیش نظر ہی مسلمانوں نے خاص مرحلہ پر مسجد کی تعمیر کو ضروری خیال کیا ہے۔اسلام جو دنیا کے بڑے بڑے مذاہب میں سے سب سے آخر میں رونما ہونے والا مذہب ہے۔اب عیسائی یورپ میں پاؤں جمانے اور وہاں مقام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس بر اعظم میں اسلام کے پھیلنے اور غالب آنے کے امکانات تو اس وقت ہی معدوم ہو گئے تھے جب یورپ کے جنوبی حصوں میں عربوں کی سیاسی قوت اور ان کے بعد ترکوں کا اثر ونفوذ ہزیمت سے دوچار ہو کر خاک میں مل گیا تھا۔اس کے بعد مشرق و مغرب میں مذہبی رابطہ کا رخ یکسر بدل گیا اور وہ اس طرح اُلٹا کہ اُن علاقوں میں جہاں اسلام غالب تھا عیسائیت کی متحدہ قوت اور اس کے مستحکم مراکز سے کوئی تائید وحمایت حاصل نہیں ہوسکتی۔لیکن یورپی معاشرہ کو مذہب سے محروم کر کے اسے سراسر مادی سانچے میں ڈھالنے کی رودن بدن بڑھ رہی ہے۔اس کے نتیجہ میں جو مذہبی افراتفری اور ابتری پیدا ہو رہی ہے اس میں اشاعت اسلام کی مساعی کے پنپنے اور بار آور ہونے کا امکان ہے۔فی زمانہ ذرائع رسل و رسائل کی ترقی کے باعث بر اعظم ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں اور دنیا ایک لحاظ سے سمٹ کر چھوٹی ہو گئی ہے۔اس صورتحال نے بھی بڑے بڑے مذاہب کے جلد جلد اور براہ راست ایک دوسرے سے متصادم ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس صورتحال میں عیسائی کلیسیا کے لئے کوئی بات نئی یا انوکھی نہیں ہے۔کیونکہ کلیسیا کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ وہ ایسے علاقوں اور اقوام میں اپنے پیغام کی اشاعت کرے جن میں دوسرے مذاہب کو بالا دستی حاصل ہو لہذا ڈنمارک میں مسجد کی تعمیر فی ذاتہ اس امر کی متقاضی نہیں کہ کلیسیا اپنے طریق کار میں کوئی تبدیلی کرے۔“ کوپن ہیگن سے شائع ہونے والا روز نامہ AKTUELT “ وہاں کے ان اخبارات میں