تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 122 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 122

تاریخ احمدیت۔جلد 24 122 سال 1967ء ڈنمارک سے شائع ہونے والے با اثر اخبارات کے ادارتی مقالے ڈنمارک کے کثیر الاشاعت اور با اثر روز ناموں نے اس واقعہ کو خاص اہمیت دی۔انہوں نے نہ صرف مسجد نصرت جہاں اور اس کی افتتاحی تقریب کے فوٹو اور تفصیلی خبر میں شائع کیں۔بلکہ نامور روز ناموں نے اپنے ادارتی مقالوں میں ڈنمارک کی تاریخ کے اس عظیم واقعہ پر تبصرہ کرنا ضروری سمجھا۔الا ما شاء اللہ۔یہ تبصرے بالعموم مخالفانہ جذبہ کے ماتحت لکھے گئے۔لیکن ساتھ ہی ان میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کو سراہتے ہوئے عیسائیت کے گڑھ میں مسجد کی تعمیر کو اسلام کی قوت و عظمت کا درخشندہ نشان قرار دیا گیا۔روزنامه KRISTELIGT DAGBLAD(کلیسائے ڈنمارک کا ترجمان اور عیسائی حلقوں کا مقبول ترین اخبار ) نے اپنے شمارہ ۲۱ جولائی ۱۹۶۷ء میں لکھا:۔ڈنمارک میں پہلی مسجد کا افتتاح“ ڈنمارک میں مسجد ! آج سے ہیں تھیں سال قبل یہ تصور ہی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ ڈنمارک میں بھی کوئی مسجد تعمیر ہو سکتی ہے۔اس وقت ایسا خیال مضحکہ خیز شمار ہوتا اور اس پر قہقہے بلند کئے جاتے۔بہر حال یہ مانا پڑے گا کہ اسلام کی اس شاخ ( یعنی جماعت احمدیہ۔ناقل ) نے فی زمانہ تبلیغی جد و جہد کا حیران کن مظاہرہ کیا ہے اور اس میدان میں اس نے بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔بالخصوص افریقہ میں اس نے جو کامیابی حاصل کی ہے وہ کسی لحاظ سے کم نہیں ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈنمارک میں اس جماعت کی ترقی کے امکانات ہیں کہ نہیں ؟ ہمارے نزدیک اگر مارمن اور یہوواہ فرقوں کے لوگ دوسروں کو اپنا ہم خیال بنا سکتے ہیں تو یہاں اسلام کو پیرو کیوں نہیں مل سکیں گے؟ یہ درست ہے کہ اس وقت تک ڈنمارک میں اس جماعت کے ممبر بہت تھوڑے ہیں لیکن اس تعلق میں ہم یہ یاد دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہی بات مسلمان ممالک میں عیسائیت قبول کرنے والوں پر صادق آتی ہے۔ان ممالک میں وہ خود بہت قلیل تعداد میں ہیں تا ہم اس سلسلہ میں یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے ملک میں مکمل مذہبی آزادی ہے جبکہ مسلم ممالک میں عیسائیت قبول کرنے کے نتیجہ میں جان کو خطرہ لاحق ہونا یا کم از کم خطرناک معاشرتی نتائج سے دو چار ہونا ایک لازمی امر ہے۔