تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 123 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 123

تاریخ احمدیت۔جلد 24 123 سال 1967ء ہم آج کی خبر کا نوٹس لینا ضروری سمجھتے ہیں اور ہم تو ان لوگوں کی ہمت اور حوصلہ کی داد دینے کے لئے بھی تیار ہیں جس کے بل پر انہوں نے نسبتاً بہت تھوڑی مدت میں یہ کچھ کر دکھایا۔اس امر کا احساس ہمارے لیے چنداں دکھ اور تکلیف کا موجب نہیں ہو سکتا۔خصوصاً عین ایسے وقت میں جب کہ اسرائیل اور دنیائے عرب کے درمیان کشیدگی زوروں پر ہے۔اسلام حقیقت ہم سے اتنا دور اور اتنا متروک نہیں ہے جیسا کہ اسے ہمارے آباء واجداد عام طور پر یقین کرتے تھے۔اسلام کی قوت اور عظمت کا یہ ایک درخشندہ نشان ہے جس کا تعمیر مکمل ہونے کے بعد آج افتتاح ہوا ہے۔کیا ہی اچھا ہوا گر یہ مسجد اہلِ کلیسا کو دونوں مذاہب (اسلام اور عیسائیت ) کا اصل باہمی فرق معلوم کرنے اور اس پر اپنی توجہ مرکوز کرنے پر آمادہ کر دے۔باہمی فرق کو گا ہے گا ہے اچھالا تو بہت جاتا ہے لیکن دراصل اس فرق کا کوئی جواز موجود نہیں ہوتا۔جو لوگ اصل حقیقت سے آگاہ ہیں ان کا یہ کہنا کہ عیسائی مشنوں نے ابھی تک مسلمانوں کو مخاطب کرنے کا صحیح ڈھنگ نہیں سیکھا۔اس لحاظ سے بھی کوپن ہیگن کی مسجد کلیسا کے لیے ایک پر زور یاد دہانی کا کام دے سکتی ہے۔روزنامه BERLINGSKE TIDENDE ڈنمارک کا قومی اخبار ہونے کے باعث وہاں کا سب سے زیادہ با اثر اخبار شمار ہوتا ہے۔ہر چند کہ اُس نے مسجد ڈنمارک کے افتتاح پر مخالفانہ جذ بہ کے ماتحت ادارتی مقالہ لکھا تاہم اس نے چاروناچار اس امر کو تسلیم کیا کہ مذہبی افراتفری اور ابتری کے موجودہ دور میں اشاعت اسلام کی مساعی کے بارآور ہونے کا امکان ہے۔چنانچہ اخبار نے اپنی ۲۴ جولائی ۱۹۶۷ء کی اشاعت میں یہ خبر دی کہ:۔ڈنمارک میں مسجد ڈنمارک میں اسلام کی تبلیغی مساعی کا آغاز ۱۹۵۰ء کے اواخر میں ہوا تھا۔لیکن چند ماہ پیشتر قرآن کے ڈینش ترجمہ کی اشاعت اور اب حال ہی میں وی ڈورا (HVIDOVRE) میں ایک مسجد کے افتتاح کے ذریعہ اسلام کی یہ تبلیغی مساعی پہلی بار نمایاں اور مؤثر طور پر منصہ شہود پر آئی ہیں۔ڈنمارک میں اسلام کی یہ تحریک اپنی خواتین کی بین الاقوامی انجمن کے فراہم کردہ وسائل سے یہ مسجد تعمیر کرنے کے قابل ہوئی ہے۔اس کے اراکین کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے کہ وہ مقامی طور پر اپنی تبلیغی مہم کو کامیابی سے چلا سکے۔خود احمد یہ مشن کی اپنی اطلاع کے مطابق اس وقت ڈینیش مسلمانوں کی تعداد ایک سو سے کچھ اوپر ہوگی۔اس ملک میں مستقل یا عارضی طور پر رہائش رکھنے والے غیر ملکی مسلمانوں کی