تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 121
تاریخ احمدیت۔جلد 24 121 سال 1967ء حضور اقدس پریس کانفرنس سے فراغت کے بعد بہت دیر تک خدام میں رونق افروز رہے اور فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس تیسری عالمگیر تباہی کا ذکر فر مایا ہے۔اس کے دن اب قریب آتے جاتے ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ان لوگوں پر اتمام محبت کر دیں۔اور اسلام کا پیغام ان کو پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔شام کو ساڑھے سات بجے مسجد کے افتتاح کی تقریب کا آنکھوں دیکھا حال ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا۔نیز ریڈیو پر بھی پروگرام نشر کیا گیا۔اور شام کو شائع ہونے والے اخبارات نے مسجد کی تصاویر کے ساتھ افتتاح کی تقریب کی مفصل رپورٹیں شائع کیں۔ایک اخبار نے سُرخی جمائی "محمد صلی اللہ علیہ وسلم ڈنمارک میں آگئے ہیں۔اور اب اس مسجد کے قیام کی وجہ سے آپ کی آواز ڈینش لوگوں تک پہنچے گی۔افتتاح کی تقریب میں پاکستان ، ہندوستان اور ترکی کے سفراء نے بھی شرکت کی۔لوکل معززین میں سے لارڈ میئر اور اس کی کا بینہ، یونیورسٹی کے پروفیسر اور مستشرق، کوپن ہیگن میوزیم کے ڈائریکٹر، احمدیت اور اسلام پر تحقیق کرنے والے عیسائی بورڈ کے ممبر، رائٹر، ڈینش ایسوسی ایٹڈ پریس، یونائیٹڈ پریس، سویڈش اور ڈنیش پر لیس اور عالمی پریس کے نمائندوں کے علاوہ (I۔T۔S) یعنی عالمی ٹیلی ویژن سروس نیز ڈینش ٹیلی ویژن و ریڈیو، اسی طرح تمام فر میں جن کے اسلامی ملکوں سے تجارتی تعلقات ہیں ، کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔حضور نے سب کو شرف مصافحہ بھی بخشا۔مسجد کو دیکھنے والے مردوں اور عورتوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔افتتاحی تقریب کے مناظر سعودی عرب ٹیلی ویژن سے اس افتتاحی تقریب کے مناظر نہ صرف ڈنمارک ٹیلی ویژن پر دکھائے گئے بلکہ یورپ کے بعض دوسرے ممالک نیز اسلامی ممالک نے اس تقریب میں غیر معمولی دلچسپی لی۔خصوصاً سعودی عرب نے جہاں ٹیلی ویژن پر یہ فلم دو بار دکھائی گئی۔فلم میں مسجد نصرت جہاں کی عمارت ، افتتاحی تقریر اور پہلی نماز جمعہ کے دلکش مناظر بھی شامل تھے۔اسی طرح مغربی جرمنی کے ٹیلی ویژن پر بھی اس فلم کی نمائش ہوئی۔اور ان دو ممالک میں لاکھوں افراد نے افتتاحی تقریب کے روح پرور مناظر دیکھے۔علاوہ ازیں مراکش ریڈیو نے اپنے مختلف نیوز بلیٹنز میں تین بار اس تقریب کی خبر نشر کی۔103