تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 120
تاریخ احمدیت۔جلد 24 120 سال 1967ء خیبر کے یہودی اور نجران کے عیسائی اسلامی حکومت کے زیر اقتدار آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اعتقاد اور اس کے مطابق اعمال کی مکمل آزادی عطا فرمائی۔یہ بات بھی مستند روایات میں مذکور ہے کہ جب نجران کے عیسائی مدینہ منورہ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت عطا فرمائی کہ وہ مسجد نبوی میں ہی اپنی عبادت کی رسوم ادا کر لیں۔اور جب بعض صحابہ کو اس پر اعتراض پیدا ہوا تو حضور نے اس پر انہیں تنبیہ فرمائی۔چنانچہ عیسائیوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے اپنے طریق پر عبادت کی رسوم ادا کر لیں۔“ پھر حضور انور نے اسلام کے پانچ بنیادی ارکان کے اوپر تفصیلی روشنی ڈالی اور بعد ازاں مختلف دعائیں کرتے ہوئے فرمایا:۔”اے ہمارے آقا اور ہمارے رب ! اپنے اس گھر کو امن اور حفاظت کا گھر بنا دے۔اس میں نماز ادا کرنے والوں کو توفیق عطا فرما کہ وہ غلط فہمیوں اور شرارتوں کے بادلوں کو اس دُنیا سے چھانٹ کر رکھ دیں۔اے خدا ایسا کر کہ تمام انسان ایک دفعہ پھر آپس میں بھائی بھائی بن جائیں۔اور ایسا ہو کہ تمام بنی نوع انسان تیری حفظ و امان کے خوشگوار سائے کے نیچے پناہ لیں اور تیرا ٹور ہر دل میں چمکے اور سب دل تیرے محبوب اور انسانیت کے محسن اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق سے لبریز ہو 166 جائیں۔تقریب کا آنکھوں دیکھا حال تقریر کے بعد حضور اقدس نے دعا کرائی جس کے بعد السید حسین زین صاحب نے ڈنمارک میں مقیم عربوں کی طرف سے حضور اقدس کی خدمت میں عربی زبان میں خوش آمدید کہا۔اس کا رروائی کے اختتام پر حضور اقدس پر یس کا نفرنس کو خطاب فرمانے تشریف لے گئے۔جماعت ڈنمارک کے افراد نے عموماً اور مسٹر و مسٹر میڈسن اور مس مریم نے دن رات ایک کر کے مہمانوں کے کھانے وغیرہ کا نہایت اعلیٰ رنگ میں بندوبست کیا تھا۔جرمن احمدیوں نے بھی بڑے اخلاص کے ساتھ ہاتھ بٹایا۔فجزاهم الله احسن الجزاء