تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 110
تاریخ احمدیت۔جلد 24 110 سال 1967ء علیہ السلام کے اقوال سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ میں (۳۰) سال کے بعد دنیا میں ایک زبر دست تباہی آنے والی ہے۔اور اس تباہی میں صرف وہی لوگ محفوظ رہ سکیں گے۔جن کا اپنے خالق سے صحیح تعلق ہوگا۔اور اس تباہی کے بعد کیا روس اور کیا امریکہ بلکہ ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔یہ پریس کانفرنس اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی کامیاب رہی۔اس پر حضور انور نے کئی بار خوشنودی کا اظہار بھی فرمایا۔جماعت ہمبرگ کی طرف سے دعوت 94 ۱۷ جولائی کی شام کو مقامی جماعت نے حضور انور کے اعزاز میں کھانے کی دعوت دی جس میں حضور انور نے مع قافلہ شرکت فرمائی۔اس موقعہ پر جماعت کی طرف سے حضور کی خدمت میں ایک ٹائم ہیں بھی تحفہ پیش کیا گیا جسے حضور نے از راہ نوازش قبول فرمایا۔ہمبرگ کی ایک دلکش شام سترہ جولائی ۱۹۶۷ء کو نماز عشاء کے بعد حضور انور نے مسجد میں فرداً فرداً احباب سے ملاقات فرمائی۔ایک جرمن دوست جو بھی جماعت میں شامل نہیں ہوئے حضور سے ملے ان کی تاریخ پیدائش سولہ نومبر اور حضور کی بھی یہی تاریخ پیدائش تھی۔جب اس جرمن دوست کو اس بات کا پتہ چلا تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔اگر چہ عمر میں تفاوت ہے۔وہ جرمن دوست ۱۸۸۶ء میں پیدا ہوئے تھے اور حضور ۱۹۰۹ء میں لیکن اس کے باوجود چونکہ مہینہ اور تاریخ ایک ہی ہے اس لئے وہ جرمن دوست بہت خوش ہوئے۔حضور نے تذکرہ میں سے ۱۸۸۶ء کا ایک الہام جرمن زبان میں ترجمہ کر کے انہیں لکھ کر بطور تحفہ عطا کیا۔وہ الہام یہ ہے:۔خدا تجھے نہیں بھولے گا اور فراموش نہیں کرے گا“ اس پر دوسرے دوستوں نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا کہ انہیں بھی سال پیدائش یا اگر ممکن ہو تو یوم پیدائش یا پیدائش کے مہینہ کے کسی الہام کا ترجمہ کر کے دیا جائے چنانچہ حضور نے متعدد دوستوں کی اس خواہش کو پورا کیا۔مختلف دوستوں کے لئے جو الہامات نکال کر دیئے گئے وہ یہ تھے:۔عبدالکریم ڈنکر : وَاللَّهُ وَلِيُّكَ وَ رَبُّكَ