تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 99 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 99

تاریخ احمدیت۔جلد 24 99 سال 1967ء نمائندگان اور متعدد بڑے افسروں نے بھی شرکت کی۔مشہور مستشرق پروفیسر ڈاکٹر G۔F PIJPER بھی حضور سے ملاقات کے لئے تشریف لائے۔علاوہ ازیں ایک کیتھولک پادری صاحب جن کا نام FATHER COULAY تھا وہ بھی مسجد آ کر حضور سے ملے۔یہاں کی صوفی تحریک کے موجودہ لیڈر نے بھی حضور انور سے شرف ملاقات حاصل کیا اور کچھ دیر تک بیٹھے گفتگو کرتے رہے۔ترکی کی حکومت کی طرف سے ترک مزدوروں کی دینی تربیت کے لئے جو امام صاحب ہالینڈ بھجوائے گئے تھے انہوں نے بھی اس موقعہ پر حضور انور سے ملاقات کی۔انڈونیشیا کے ان مسلم گھرانوں کے لیڈر جو ہالینڈ میں آباد ہو چکے ہیں کافی مسافت طے کر کے حضور انور سے ملنے آئے۔اسی طرح پولینڈ میں انڈونیشیا کے سفارتخانہ کے فرسٹ سیکرٹری مکرم بی پنو صاحب جو بفضلہ تعالیٰ احمدی ہیں مع بیگم صاحبہ وہاں سے حضور کی ملاقات کو ہالینڈ تشریف لائے اور اس موقعہ پر موجود تھے۔اُنہی کے ذریعہ ریسیپشن کے موقعہ پر حضور کی ایک فلم بھی لی گئی۔ہالینڈ کے آبی مسائل کے مشہور انجینئر پروفیسر ڈاکٹر J۔P۔THIJSSEN بھی حضرت صاحب کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس دعوت کے موقعہ پر ہالینڈ کے بعض چیدہ حضرات کے لئے حضورانور سے ملاقات کا موقع پیدا ہوا۔سورینام ( سابق ڈچ گی آنا) کے بھی بہت سے لوگ آکر حضور سے ملے اور اپنے ملک آنے کی دعوت دی۔حضور انور ان سے کافی دیر تک گفتگو فرماتے رہے۔مستورات کے لئے مسجد کے اوپر کے حصہ میں استقبالیہ کا انتظام تھا۔چنانچہ حضرت بیگم صاحبہ حضرت خلیفة المسیح الثالث و محترمہ بیگم صاحبہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے اوپر کے حصہ میں مستورات کو Receive کیا اور اُن کی باتوں میں دلچسپی لیتے ہوئے محو گفتگو ر ہیں۔یہاں کی مستورات پر آپ کی گفتگو کا نہایت اچھے رنگ میں اثر پڑا۔حضور کے اعزاز میں دعوت طعام مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۶۷ء کو بروز جمعہ ایک اسلامی ملک کے سفیر صاحب نے حضور انور اور افرادِ قافلہ ومبلغین کو کھانے پر مدعو کیا۔حضور انور نے یہ دعوت قبول فرما کر ان کی عزت افزائی فرمائی اور وہ اس سعادت کے ملنے پر بے حد خوش تھے۔مؤرخہ ۱۵ جولائی ۱۹۶۷ء کو ہفتہ کے دن جماعت کی طرف سے حضورانور کے اعزاز میں کھانے کا