تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 98
تاریخ احمدیت۔جلد 24 98 سال 1967ء اس پر یس کا نفرنس میں پریس نے غیر معمولی دلچسپی لی۔اتنے میں حضور بھی تشریف لے آئے اور ایک پُر وقار ماحول میں گفتگو شروع ہوئی۔سب سے پہلے ریڈیو ہالینڈ کے نمائندہ نے آپ کا انٹرو یولیا اور اجازت لے کر چلا گیا اور حضور کا یہ انٹرویو اُسی روز ریڈیو پر نشر ہو گیا۔پھر اخبارات کے نمائندگان سے گفتگو ہوتی رہی۔ایک سوال کے جواب میں حضور نے نہایت پُر شوکت جذ بہ سے فرمایا کہ میں مغربی اقوام کو یہ پیغام دینے آیا ہوں کہ اگر انہوں نے اپنے خالق کو نہ پہچانا تو وہ تباہ و برباد ہو جائیں گے۔نیز آپ نے فرمایا کہ مغربی اقوام کا آئندہ مذہب یقینی طور پر اسلام ہی ہوگا۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کا ذکر فرمایا جس میں حضور کو روس میں اسلام کے پھیلنے کی خبر دی گئی ہے اور جس میں ایک ایسی تباہی کا ذکر آتا ہے کہ جس میں انسان، حیوانات اور شجر و حجر تک کے وجود کا صفایا ہو جائے گا اور اس کے بعد اسلام پھیلے گا۔حضور کی یہ پریس کانفرنس محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی کامیاب رہی اور حضور کے فرمائے ہوئے خاص خاص فقرات نے عجیب تاثیر پیدا کی۔اخبارات نے آپ کے فقرات کو شائع کر کے ملک کے دور ونزدیک اور ہر طبقہ ہائے زندگی کے لوگوں تک پہنچا دیا اور اس طرح حضور کا یہ پیغام مغربی اقوام میں سے ڈچ افراد تک پہنچ گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملک کے اہم اخبارات نے حضور انور کی تصاویر کے ساتھ آپ کے پیغام کو شائع کیا۔علاوہ ازیں بعض لوکل اخبارات نے بھی خبریں شائع کیں۔استقبالیہ مؤرخہ ۱۵ جولائی ۱۹۶۷ء کو ساڑھے چار بجے شام ہالینڈ مین کی طرف سے حضرت خلیفہ مسیح الثالث کے اعزاز میں ایک عظیم الشان استقبالیہ دیا گیا۔اس موقع پر ہالینڈ کے بعض چوٹی کے علماء اور دیگر اہم شخصیتوں کو حضور انور سے ملاقات کا موقع ملا۔لوگ شوق ملاقات میں غیر متوقع طور پر بہت زیادہ آگئے لیکن جو بھی انتظام موجود تھا اس میں بفضلہ تعالیٰ کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔بلکہ اللہ تعالی نے سب چیزوں میں اپنے فضل سے برکت دے دی۔اس وقت مختلف قومیتوں کے لوگ حاضر تھے۔جیسے پاکستان، ہالینڈ ، جاپان ،ترکی ، انڈونیشیا، تنزانیہ، نائیجیریا، دیگر عرب و افریقن ممالک اور انگلستان اور امریکہ وغیرہ۔بعض ممالک کے سفیر یا