تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 97
تاریخ احمدیت۔جلد 24 97 سال 1967ء ہوئے۔وہ لوگ جو ایئر پورٹ پر نہ جا سکے تھے مسجد میں آپ کے منتظر تھے۔حضور کے موٹر سے اتر نے پر یہ ہجوم بھی آپ کی طرف بڑھا اور السلام علیکم اور مصافحہ کا شرف حاصل کیا اور اھلاً و سھلاً ومرحباً کہتے ہوئے حضور کا استقبال کیا۔نماز جمعہ جمعہ کا وقت ہو رہا تھا۔حضور نے کھانے سے پہلے جمعہ پڑھانا پسند فرمایا۔چنانچہ ایک ڈچ احمدی بھائی Mr Omar Huybrechts نے پہلی اذان دی اور لوگ جمعہ کے لئے تیار ہو گئے۔مسجد میں اس قدر بھیڑ ہوگئی کہ مزید ایک آدمی کے لئے بھی گنجائش نہ تھی۔باقی افراد کے لئے مسجد سے ملحقہ ہال میں نماز کے لئے انتظام کیا گیا۔حضور انور نے جمعہ پڑھایا۔خطبہ جمعہ میں حضور انور نے آیات قرآنیہ اِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمُ فِي كِتَبٍ مَّكْنُونٍ لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ تَنْزِيلٌ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ (الواقعہ: ۷۸ تا ۸۱) کی تشریح بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس آیت شریفہ میں کتاب الہی کی چار صفات بیان ہوئی ہیں۔یعنی قرآن کریم تنزیل من رب العلمین۔آپ نے ان چاروں صفات کی انگریزی زبان میں تشریح فرماتے ہوئے حاضرین کو ان سے مستفید ہونے کے طریق سے آگاہ فرمایا۔چونکہ اسی روز پر یس کا نفرنس بھی تھی اس لئے نماز جمعہ کے ساتھ ہی نماز عصر جمع ہوئی اور نماز سے فراغت کے بعد حضور او پر گھر میں تشریف لے گئے اور کھانا تناول فرمایا۔دیگر افراد قافلہ اور باہر سے آنے والے ممبران جماعت کے لئے کھانے کا انتظام بھی موجود تھا۔چنانچہ سب احباب نے مل کر مسجد کے باغ میں کھانا کھایا۔پریس کانفرنس ۱۴ جولائی ۱۹۶۷ء کو پریس کانفرنس کے لئے پونے پانچ بجے کا وقت دیا گیا تھا مگر لوگ وقت سے پہلے ہی جمع ہونا شروع ہو گئے۔مشن ہاؤس کے بڑے ہال میں بیٹھنے کے لئے پہلے سے انتظام تھا۔چنانچہ سب آنے والوں کو وہاں بٹھا دیا گیا۔ریڈیو ہالینڈ کا نمائندہ بھی اپنے ٹیپ ریکارڈر وغیرہ کے ساتھ آپہنچا۔اور بفضلہ تعالیٰ کا نفرنس شروع ہونے کے وقت تک ریڈیو ہالینڈ اور ہالینڈ پریس ایجنسیز کے نمائندگان کے علاوہ تیرہ دیگر اخبارات کے نمائندگان بھی جمع ہو گئے اور اس طرح حضور کی