تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 96 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 96

تاریخ احمدیت۔جلد 24 96 سال 1967ء سب کو ہوائی جہاز تک نہیں لے جایا جا سکتا تھا اس لئے یہاں پر دو حصے بنا دیئے گئے۔ایک حصہ و ہیں محو انتظار رہا دوسرا حصہ ہوائی جہاز کی فرودگاہ کی طرف روانہ ہوا۔مکرم مولوی عبد الحکیم اکمل صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ہالینڈ میں دنیا کے جدید ترین ایئر پورٹ کا حال ہی میں افتتاح ہوا تھا۔ہر کام مشینوں سے انجام پاتا۔سامان کو ادھر سے اُدھر لے جانے کے لئے خاص قسم کے پٹے چلتے اور کسی کو بوجھ اُٹھانا نہیں پڑتا۔علاوہ ازیں لوگوں کو بھی وہاں پر چلنے کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی۔لوگ چلتے ہوئے فرش پر کھڑے ہو جاتے اور ایک کنارے سے دوسرے کنارے پہنچ جاتے۔متعلقہ احباب بھی کئی زینے اور گیلریاں عبور کرتے ہوئے ایک ایسے ہی چلتے ہوئے فرش کی طرف نکل آئے۔کمپنی کے نمائندگان کی راہنمائی میں یہ گروپ بھی اس چلتے ہوئے فرش پر کھڑا ہو گیا اور چند لمحوں بعد ہی دوسرے کنارے پر تھا۔سب لوگ نظریں اٹھا اٹھا کر حضور کو تلاش کر رہے تھے۔ہوائی جہاز گیلری کے ساتھ لگ چکا تھا۔آخر سامنے کی طرف سے حضور پر ٹو رکا چہرہ مبارک دکھائی دیا اور قافلہ کے افراد نمودار ہوئے۔مکرم امام صاحب سب سے پہلے آگے بڑھے اور السلام علیکم کہا اور معانقہ اور مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔بعد ازاں دیگر افراد نے اهلا و سهلا و مرحبا کہتے ہوئے حضور کا استقبال کیا اور شرف معانقہ اور مصافحہ حاصل کیا۔مستورات نے بڑھ کر محترمہ بیگم صاحبہ حضرت خلیفہ المسیح و محترمہ بیگم صاحبہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی خدمت میں پھولوں کے گلدستے پیش کرتے ہوئے گرمجوشی سے خوش آمدید کہا اور حضور انور کی خدمت میں السلام علیکم کہا۔جماعت کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔حضور کو گھیرے میں لئے سب اس طرح روانہ ہوئے جیسے چاند اپنے ہالے میں ہو۔سب دوست فرحاں و شاداں کمرہ انتظار کی طرف بڑھے جہاں ایک دوسرا گروپ انتظار کی گھڑیاں گن رہا تھا اور بار بار سر اُٹھا اُٹھا کر حضور کی آمد کا منتظر تھا۔جو نہی حضور اور افراد قافلہ وہاں پہنچے دوسرے گروپ نے بھی گرمجوشی سے استقبال کیا اور حضور سے معانقہ اور مصافحہ کرنے کا شرف حاصل کیا۔حضور نے چند منٹ تک انتظارگاہ میں قیام فرمایا اور اپنے خدام سے باتیں کرتے رہے اسی اثناء میں ایئر پورٹ پر پریس کے نمائندگان آپہنچے۔اجازت حاصل کرنے کے بعد حضور کی تصاویر اتاریں۔اور چند منٹ بعد ہی ریڈیو ہالینڈ پر حضور کی آمد کی خبر سارے ملک میں نشر ہو گئی۔ایئر پورٹ سے فارغ ہونے پر سب لوگ کاروں کا قافلہ لے کر مسجد کی طرف رواں دواں