تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 93
تاریخ احمدیت۔جلد 24 93 سال 1967ء بانی سلسلہ احمدیہ کے خلیفہ ثالث حضرت مرزا ناصر احمد ایک باوقار اور بے حد اثر انداز ہونے والی پرکشش شخصیت ہیں۔آپ کا چہرہ سفید ریش سے مزین ہے آپ پاکستانی طرز کا بند گلے والا لمبا کوٹ اور سفید عمامہ پہنے ہوئے تھے۔عمامہ کا سنہری کلاہ نظر آرہا تھا۔آپ نے پنجاب یونیورسٹی لا ہور اور آکسفورڈ یونیورسٹی انگلستان میں اعلی تعلیم حاصل کی۔آپ کو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی جماعت احمدیہ کے مقرر کردہ نمائندگان نے ۶۵ء میں جماعت احمدیہ کا خلیفہ منتخب کیا۔آپ نے سلجھے ہوئے انداز اور میٹھی زبان میں واضح فرمایا کہ دور حاضر میں اسلام کا کیا کردار ہے۔آپ نے اس بات پر زور دیا کہ آپ جس مذہب کے پیرو ہیں وہ یعنی اسلام امن کا حامی اور رواداری کا علمبر دار ہے اور یہ انسانی حقوق کی حفاظت کرتا ہے آپ نے قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں واضح فرمایا کہ اسلام نے سیاست کے میدان میں بھی عدل و انصاف کو ہی بنیادی اصل قرار دیا ہے۔آپ نے دنیا میں غذائی بحران کے پیدا ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔آپ نے یہ سب ارشادات ایک خطاب کی شکل میں پر شوکت اردو میں فرمائے جن کا ساتھ ساتھ جرمن ترجمہ کیا جاتا رہا۔حضرت امام جماعت احمد یہ اردو زبان میں خطاب کے علاوہ استقبالیہ تقریب میں صبر و سکون کے ساتھ یورپین مہمانوں کے سوالات کے جوابات دیتے رہے اور ان سے فصیح و بلیغ انگریزی میں گفتگو فرماتے رہے۔احمدیت اسلام کی ایک اصلاحی تحریک ہے۔اس کا نصب العین دنیا کو قرآن کی حقیقی اور اصل تعلیم کی طرف واپس لانا ہے اور دین کو گزشتہ صدیوں کی بدعات اور غیر یقینی روایات سے پاک کرنا ہے۔عیسائیت کے بارہ میں احمدیت کا نقطہ نظر وہی ہے جو ابتداء سے اسلام کا ہے یعنی یہ کہ مسیح ان انبیاء میں سے ایک تھے جو دنیا کو انتباہ کرنے اور اسے بیدار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وقتاً فوقتاً مبعوث کئے گئے۔ہندوستان میں گوتم بدھ اور ایران میں زرتشت اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیشرو تھے جس طرح مسیح فلسطین میں آپ کے پیشرو کے طور پر مبعوث ہوئے۔بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد (علیہ السلام) کا تعلق لاہور (اصل میں گورداسپور لکھنا چاہئے تھا مترجم ) کے ایک گاؤں سے تھا۔اکثر پیشوایان مذاہب کی طرح آپ کو اپنی بعثت کا علم رویا و کشوف کے ذریعہ حاصل ہوا۔اس علم کے تحت آپ نے مسیحیت کا مقابلہ جاری رکھا اُس برصغیر میں جہاں مسیحی ممالک کی فوجوں اور پادریوں کی مدد سے نو آبادیاں قائم کی گئیں اور مسیحیت کا پرچار کیا گیا آپ کی طرف سے مسیحیت کا یہ مقابلہ تعجب انگیز نہیں آپ نے اپنی تصانیف میں اپنے آپ کو مسیح قرار دیا جسے