تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 94
تاریخ احمدیت۔جلد 24 94 سال 1967ء خدا نے اس لئے معبوث کیا کہ تا وہ دلائل اور روحانی اصلاح کے ذریعہ اس صلیب کو توڑے جس نے مسیح کو توڑا تھا۔(نمائندہ اخبار کی درخواست پر حضرت امام جماعت احمدیہ نے اسے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی جماعت احمدیہ کی کتاب کا اصل حوالہ نکال کر دکھایا ) جماعت احمدیہ کے تبلیغی مراکز اس وقت دنیا کے تینتیس ملکوں میں قائم ہیں۔اس جماعت کو افریقہ میں بڑی کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔صرف مغربی افریقہ میں ہی اس کے مختلف درجوں کے پچاس سکول ہیں۔کچھ عرصہ سے شفا خانے اور ڈسپنسریاں بھی ایسے مقامات پر یہ جماعت کھول رہی ہے جہاں ان کی بہت ضرورت ہے۔نائیجیریا کے سفیر ہز ایکسی لینسی سمولے ڈیڈے کو لو نے جو خود مکہ معظمہ میں فریضہ حج ادا کر چکے ہیں اور ”الحاجی“ کہلاتے ہیں اس امر پر زور دیا کہ نائیجیریا میں جماعت احمدیہ تعلیمی ترقی اور معاشرتی اصلاحات کے میدان میں دیگر دینی تحریکات کی نسبت پیش پیش ہے۔سوئیس پارلیمنٹ کے رکن مسٹر کارل کیٹرر نے جو سوئٹزر لینڈ میں ترکوں کی مجلس کے صدر ہیں اس امر کو سراہا کہ یہ تقریب رواداری کی آئینہ دار ہے۔اور اس میں تمام مذاہب کے نمائندگان کو مدعو کیا گیا ہے۔اس تقریب میں بلند پایہ مستشرق اور زیورک یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایڈ وآسٹ شوائمز موجود تھے۔ان کی رائے میں رواداری کا یہ نمونہ انسانی معاشرہ میں با ہم روز افزوں گہرے روابط اور تعلقات کی ایک خوشکن علامت ہے انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی روحانی اور مذہبی قسم کے احساس برتری اور تفوق کے رحجانات سے دست بردار ہو جانے کی صورت میں ہی نوع انسانی کے اندر باہمی اعتماد کی فضا پیدا کر سکتے ہیں جس کے بغیر امن کا قیام ناممکن ہے۔یونین بک سوئٹزر لینڈ کے ڈائریکٹر ارنسٹ جی رینک (ERNEST۔G۔RANK) نے حکومت ڈنمارک کے آنریری قونصل کی حیثیت سے حضرت امام جماعت احمدیہ کی خدمت میں اپنی حکومت کی طرف سے خوش آمدید کا پیغام پیش کیا۔یادر ہے حضرت امام جماعت احمدیہ مرزا ناصر احمد ۲۱ جولائی کو ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں جماعت احمدیہ کی چھٹی یورپی مسجد کا افتتاح فرمار ہے ہیں۔20 90- ہالینڈ میں تشریف آوری اور حضور کی دینی مصروفیات مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل مبلغ ہالینڈ حضورانور کے اس دورے کی تفصیلات تحریر کرتے ہوئے