تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 759
تاریخ احمدیت۔جلد 23 759 سال 1966ء نائیجیریا ۱۰۹ را پریل ۱۹۶۶ء کو جماعت احمدیہ کا نہایت کامیاب سالانہ جلسہ منعقد ہوا۔حضرت خلیفة أسبح الثالث نے حاضرین جلسہ کے نام روح پرور پیغام میں نصیحت فرمائی کہ وہ اسلام کے جھنڈے کو ہمیشہ بلند رکھیں ہر احمدی اپنی زندگی کو اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے تا کہ وہ اپنے وجود میں اسلامی تعلیم کا عملی نمونہ پیش کرنے کے قابل ہو سکے۔ہراجلاس میں جملہ احباب نے کھڑے ہو کر نظام خلافت کے ساتھ وابستگی اور اس کی حفاظت کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عہد بلند آواز سے دہرایا۔جلسہ گاہ پُر جوش نعروں سے گونجتی رہی۔نائیجیر یا مسلم کونسل کے سیکرٹری جناب الحاج لا گوڈا، انڈو نیشین سفیر مقیم لیگوس، ایڈوانسڈ ٹیچر ٹریننگ کالج کے پرنسپل اور دیگر احباب نے اپنی تقاریر میں نائیجیر یا احمد یہ مشن کو اس کی عظیم الشان دینی خدمات پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین ادا کیا۔نائیجیریا کے ذرائع ابلاغ (اخبار، ریڈیو اور ٹیلی ویژن ) نے جلسہ کی خبریں شائع اور نشر کیں اور جلسہ کے مناظر خصوصاً سوال و جواب کا پروگرام خاص اہتمام کے ساتھ دکھلایا گیا۔احمد یہ جماعت کو نائیجیریا میں ریڈیو اور ٹیلیویژن کی بہت سی آسانیاں میسر ہونے کے باعث ٹیلی ویژن پر احمدیت سے لوگوں کو متعارف کرانے کے لیے سوال و جواب کا ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس میں احمدیت کے مخصوص عقائد اور عملی حصہ کی تشریح کی گئی۔مذاکرہ کی صدارت ایک احمدی دوست نے کی جبکہ مبلغ انچارج الحاج مولوی نصیر الدین احمد صاحب اور ان کے تین ساتھیوں نے سوالوں کے جواب دیے۔105 ہالینڈ 102 حافظ قدرت اللہ صاحب انچارج ہالینڈ مشن کو اس سال ملک کے متعد دحلقوں ،سکول، کالج اور یو نیورسٹیوں نے اپنے ہاں تقریر کے لئے مدعو کیا۔آپ نے اپنی تقاریر میں اسلام کی کامیاب نمائندگی کی اور سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔آپ کی بعض تقاریر کی خبریں مقامی پریس میں بھی شائع ہوئیں۔سال کے ابتدائی چار ماہ میں آپ کی بارہ حلقوں میں تقاریر ہوئیں۔جن میں سے بعض کا نام یہ ہے۔سر بینام (سابق ڈچ گیا نا) کی ہالینڈ کلب (ہی)، پبلک لائبریری (بسم )، چرچ سوسائٹی بسم