تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 760 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 760

تاریخ احمدیت۔جلد 23 760 سال 1966ء (JONGE KERK) ، فری یونیورسٹی (زتفن ) ، سوشل سنٹر (رورمند)، کلچر سنٹر (ایمسٹر ڈم)، سوشل سنٹر ( نین روڈ NYENRODE) کیتھولک مرکز (الکمار ALKMAAR)،سالویشن سنٹر کی تنظیم ( دور در یخت)DORDRECHT، ریفارم چرچ سنٹر ( آلر ڈنک ) ALERDINK ہیگ کے کیتھولک سکول اور سکاؤٹ گروپ اور روٹرڈیم کی یونیورسٹی اور دیگر مقامات سے متعدد وفود مشن ہاؤس میں پہنچے اور حافظ صاحب اور مولوی عبد الحکیم صاحب اکمل نے انہیں اسلام واحمدیت کے بارے میں ضروری معلومات بہم پہنچائیں۔زائرین کا سلسلہ بھی جاری رہا جن میں ڈچ کے علاوہ ترکی، ایران ، پاکستان، مصر، سعودی عرب، کویت، اردن، انڈونیشیا، سرینام اور لندن وغیرہ کے اصحاب شامل تھے۔ملک کے مذہبی حلقوں میں اس سال کا یہ واقعہ خصوصی اہمیت کا حامل تھا کہ ڈاکٹر کے۔برنا (DR۔K۔BERNA) کی کتاب مسیح صلیب پر نہیں مرے، اشاعت پذیر ہوئی۔کفنِ مسیح کے بارہ میں اس وقت تک جو سائنسی تحقیقات ہوئی اس سلسلہ میں یہ ایک دستاویز تھی ڈچ پبلشر نے احمد یہ مشن سے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کی اسی موضوع پر مشہور تالیف’ WHERE DID ?JESUS DIE “ بھی خاصی تعداد میں منگوائی نیز اپنی کتاب میں اس کا عمدہ رنگ میں ذکر کر کے لکھا کہ ہماری یہ کتاب ایک سائنسی تحقیقات کے نتائج پر مشتمل ہے جس نے تاریخی اور مذہبی بنیادوں پر اس موضوع کا مطالعہ کرنا ہو وہ مذکورہ کتاب پڑھے اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جدید علم کلام کی عظمت دوبالا ہوئی اور اس کی ملک گیر شہرت کا سامان دوسروں کے ہاتھوں ہوا اسی لئے حافظ 66 صاحب نے اپنی ایک ڈائری میں لکھا کہ اس کی اشاعت سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔یوگنڈا 166 ۲ مارچ ۱۹۶۶ء کو علاقہ ٹورو کے نئے بادشاہ جناب پیرلوک کابو کی رسم تاجپوشی کے موقعے پر یوگنڈا مشن کی طرف سے ایڈریس دیا گیا اور ساتھ ہی قرآن مجید کا تحفہ بھی۔اس سلسلے میں مرزا محمد ادریس صاحب مبلغ یوگنڈا، مولوی مقبول احمد ذبیح اور چوہدری مختار احمد صاحب ایاز پر مشتمل ایک خصوصی وفد ٹورو کے صدر مقام فورٹ پورٹل گیا۔اس اہم واقعہ کی خبر ریڈیو یوگنڈا نے نشر کی اور اخبار میں وفد کی تصویر کے ساتھ خبر شائع ہوئی۔اسی طرح ملک کی آزادی کی تقریب پر مشن کی طرف سے