تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 752
تاریخ احمدیت۔جلد23 752 سال 1966ء LIFE AND TEACHING OF THE HOLY PROPHET کا فینٹی ترجمہ شائع کیا گیا یہ دونوں کتابیں وزارت تعلیم نے سکولوں کے نصاب دینیات میں منظور کر لیں اور احمد یہ مشن سے خرید کر طلباء کو مہیا کر دیں۔قرآن کریم کا فینیٹی زبان میں ترجمہ مکمل ہوا۔جس کے بعد مولوی عبدالوہاب بن آدم صاحب نے نظر ثانی کا آغاز کیا۔آپ نے ٹوی زبان میں ایک سوا حادیث نیز بیعت فارم کا ترجمہ بھی کیا۔کینیا 93 صوفی محمد الحق صاحب جب سے کینیا مشن کے انچارج اور امیر مقرر ہوئے آپ نے پریس اور ریڈیو کی طرف خصوصی توجہ دے رکھی تھی۔اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص طور پر کامیابی عطا فرمائی۔آپ نے اخبار ”ممباسہ ٹائمنز میں ایک فرائیڈے مسلم کالم کا افتتاح کیا اور ایک عرصہ تک اس میں سرگرم حصہ لیا۔لیکن پھر اپنی دیگر دینی و تبلیغی مصروفیات کے باعث اسے کبیر احمد صاحب بھٹی کے سپر د کر دیا۔جو اس کو نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے رہے۔ممباسہ ٹائمنز “ ایک سال قبل افریقہ کے کثیر الاشاعت اخبار ایسٹ افریقن سٹینڈرڈ میں مدغم کر دیا گیا تھا۔اور صوفی صاحب کے مضامین اس اخبار میں باقاعدگی سے سپر داشاعت ہونے لگے۔علاوہ ازیں مشرقی افریقہ کے مشہور ہفت روزہ برازا (BRAZA) کے ادارہ نے آپ سے وعدہ کیا کہ آئندہ اسلام کے متعلق جن سوالات کا جواب دینا ہو گا وہ آپ ہی کے قلم سے چھپیں گے۔اس سال نیا اخبار مباسہ ایڈورٹائزر منظرِ عام پر آیا۔اس اخبار کے ادارے نے آپ سے اور کبیر احمد صاحب بھٹی سے درخواست کی کہ باری باری ان کے لئے اسلامی کالم لکھا کریں اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے کینیا کے تین وقیع اخباروں میں اسلام کی نمائندگی احمد یہ مشن کے ہاتھ منتقل ہونے کے سامان پیدا ہو گئے۔جہاں تک ریڈیو کا تعلق ہے صوفی صاحب کو اس کے ذریعہ حق کو بلند کرنے کا ایک زریں موقع یہ آیا کہ اس عرصے میں ریڈیو پر ایک مباحثہ ہوا۔جس کا عنوان تھا۔ے مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا مباحثہ میں مذہب کی طرف سے پہلی اور آخری تقریر صوفی صاحب نے کی۔اس مباحثے کے آرگنائزر ایک ہندو تھے جنہیں بتایا گیا تھا کہ اسلام کے متعلق صحیح معلومات چاہئیں تو اسے صرف احمد یہ مشن کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔عید الفطر کے موقعے پر احمدی بچوں کا ایک پروگرام 'وائس