تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 751
تاریخ احمدیت۔جلد 23 751 سال 1966ء احمدیہ کی خدمات سے روشناس ہوئے۔۱۷ جولائی کو EXHIBITION CENTRE میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت نائیجیریا کے اخبار ڈیلی ٹائمنر کے پبلیکیشن گروپ کے ڈائریکٹر اور جماعت کے عقیدت مند الحاج بابا ٹونڈ اجوز نے کی جس میں مبلغین سلسلہ نے جماعتی مساعی کو تفصیل سے بیان فرمایا اور غیر از جماعت معززین جو خاصی تعداد میں جمع تھے بہت متاثر ہوئے۔اس کا نفرنس میں اشاعت لٹریچر، تراجم کتب، سیرالیون میں ٹریننگ کالج کے اجراء توسیع تبلیغ ، احمد یہ سکولوں میں اطفال الاحمدیہ کے قیام، طلبہ میں تبلیغ مشتری ٹریننگ کالج سالٹ پانڈ کی کامیابی کے ذرائع کے بارے میں اہم تجاویز پاس کی گئیں۔اس سال ماہ مئی میں مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا۔جس میں مختلف ریجنوں اور سر کٹوں سے ایک سو نمائندگان شامل ہوئے۔صدارت کے فرائض مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم نے انجام دیئے۔سالانہ میزانیہ جوقریبا تین لاکھ اٹھارہ ہزارنوسواٹھتر روپے پرمشتمل تھا مع دیگر اہم اور ضروری جماعتی امور کے احمدية منظور کیا گیا۔مولوی عبدالوهاب بن آدم صاحب ٹیچیمان سکنڈری سکول اور دیگر کا لجوں اور سکولوں میں اور سید داؤ داحمد صاحب انور ( انچارج ٹمالے اور اشانٹی ریجن ) کے سکولز میں با قاعدہ ہر ہفتہ اسلام پر لیکچر دیتے رہے جو علمی حلقوں میں احمدیت کے مزید اثر ونفوذ کا موجب بنے۔غا نامشن کی تبلیغی مساعی میں اس سال زبر دست اضافہ ہوا کیونکہ شمالی ریجن میں دو سال قبل ایک بھی احمد یہ سکول نہیں تھا۔مگر سید داؤ د احمد صاحب انور کی کوشش سے گذشتہ سال ۱۹۶۵ء میں پانچ اور اس سال چار مزید سکول جاری ہو گئے۔جس کی نگرانی اور سارے انتظامات سید داؤ د احمد صاحب کے سپرد تھے۔ان دنوں احمدیہ تعلیمی یونٹ کے ماتحت ۷ پرائمری اور مڈل سکول اور ایک سیکنڈری سکول چل رہے تھے۔ہر ریجن کا مبلغ اس ریجن کے سکولز کا مینجر متصور ہوتا تھا۔لہذا تمام مبلغین علاوہ تبلیغی اور تربیتی امور کے تعلیمی معاملات میں بھی خاصہ وقت دیتے تھے۔بالخصوص مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم جوان تمام سکولز کے جنرل مینجر اور نگران اعلیٰ تھے۔شمالی ریجن میں چنگلی کے مقام پر ایک نئی مسجد کی تعمیر ہوئی جس کا افتتاح سید داؤ داحمد صاحب انور نے کیا۔92 مشن کی طرف سے ۱۹۶۶ء میں مسلم نماز (فینٹی ) نیز حضرت مصلح موعود کی کتاب THE