تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 58
تاریخ احمدیت۔جلد 23 58 سال 1965ء ساتھ شائع ہو چکے ہیں۔عنقریب روسی ترجمہ بھی منظر عام پر آجائے گا۔اس جماعت کا نصب العین بہت بلند ہے اور وہ یہ کہ روئے زمین پر بسنے والے تمام بنی نوع انسان کو ایک ہی مذہب کا پابند بنا کر انہیں باہم متحد کر دیا جائے۔وہ مذہب احمدیت یعنی حقیقی اسلام ہے اس کے ذریعہ یہ لوگ پوری انسانیت کو اسلامی اخوت کے رشتہ میں منسلک کر کے دنیا میں حقیقی اور پائیدار امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔انہیں توقع ہے کہ بالآخر تمام بنی نوع انسان اسلام کی آغوش میں آکر مسلمان ہو جائیں گے۔یہ جماعت خود اور اس کا اپنے مولد و مسکن سے نکل کر پوری دنیا پر اس قدر مضبوطی سے پھیل جانا نوع انسان کی روحانی تاریخ کے دیگر عجیب و غریب واقعات میں سے ایک عجیب و غریب واقعہ اور نشان ہے۔جو فی زمانہ بنی نوع انسان کے ذہنی الجھاؤ اور انتشار پر دلالت کرتا ہے۔احمدیت اور اسلام کا مسیح کی صلیب کو پوری طرح سے رڈ کر دینا اس امر کا آئینہ دار ہے کہ یہ جماعت بھی نجات کی آسمانی امید سے تہی دست ہے کیونکہ دنیا کے نجات دہندہ کی صلیب انسانیت کی موجودہ پراگندگی اور انتشار کے باوجود مفاہمت کی وہ واحد علامت ہے جو انسانوں کا خدا سے رشتہ جوڑنے کی ضمانت دے سکتی ہے اور آئندہ بھی ہمیشہ دیتی رہے گی۔28 ڈاکٹر عبد السلام کی تقر می ریڈیو پاکستان سے اپریل ۱۹۶۵ء کے تیسرے ہفتہ سے قبل اقبال میموریل لیکچرز کا ایک سلسلہ ریڈیو پاکستان نے کراچی سے شروع کیا جس کا افتتاح جناب محمد ایوب خان صدر پاکستان کے سائنسی مشیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی تقریر سے ہوا چنا نچہ اخبار پاکستان ٹائمنر نے اپنی ۲۲ اپریل ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں لکھا:۔صدر مملکت کے سائنسی مشیر اعلیٰ محترم پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ آج سے آٹھ سو سال پہلے کے دور فردوسی کی طرح ڈاکٹر اقبال کے دور یعنی موجودہ زمانہ میں ایسے عظیم سائنسدان پیدا ہوں گے کہ جو ذہانت اور روشن دماغی میں ابن سینا اور البیرونی کے ہم پلہ ہوں۔آپ نے اس خیال کا اظہار مورخہ ۲۱ را پریل ۱۹۶۵ء کو اقبال میموریل لیکچرز کے سلسلہ میں ریڈیو پاکستان سے تقریر نشر کرتے ہوئے کیا۔ریڈیو پاکستان کے قومی پروگرام کے تحت نشر ہونیوالے ان میموریل لیکچرز کا آغاز آپ ہی کے لیکچر سے ہوا۔آپ نے اپنے لیکچر میں جو اس سلسلہ کا سب سے