تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 57 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 57

تاریخ احمدیت۔جلد 23 57 سال 1965ء جانا ان کے دعوی مسیحیت کے بطلان پر دال تھا۔عیسائی کہتے ہیں کہ انہوں نے تو بنی نوع انسان کے گناہوں کی پاداش میں کفارہ کے طور پر اپنی جان دی۔اس بارہ میں یہودی اور عیسائی دونوں غلطی پر ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ مسیح کو اس حال میں صلیب پر سے اتارا گیا تھا کہ ان پر بیہوشی طاری تھی۔اس زمانہ کے مامور احمد (علیہ السلام) آف قادیان نے دنیا میں مبعوث ہو کر اعلان کیا کہ مسیح (علیہ السلام) صلیب کے اثرات سے صحت یاب ہو گئے تھے پھر انہوں نے ہندوستان کا سفر اختیار کیا۔وہاں پہنچ کر اپنے پیغام کی اشاعت کی۔بالآخر طبعی موت سے وہیں وفات پائی۔اور کشمیر میں دفن ہوئے۔احمد (علیہ السلام) کو اپنے اس انکشاف کا بآسانی ثبوت بھی مل گیا اور وہ اس طرح کہ آپ قبر مسیح کا پتہ لگانے میں کامیاب ہو گئے۔آپ نے یوز آصف نامی ایک مسلمان ولی کی قبر دریافت ہونے پر اس کے نام کو یسوع آصف میں تبدیل کر دیا اور دعویٰ یہ کیا کہ اس کے معنے ہیں یسوع۔۔۔۔۔۔۔لوگوں کو اکٹھا کرنے والا اس طرح جو مقبرہ دریافت ہوا اسے مسیح ناصری کا مقبرہ ثابت کر دیا گیا۔احمدیت کی تحریک انگلستان میں ۱۹۱۷ء میں ہی پہنچ گئی تھی۔اپنے وطن یعنی ہندوستان میں اسے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن یہ مخالفت اس کے مزید بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا موجب بنی۔۱۹۳۴ء میں اس جماعت کی طرف سے ہندوستان سے باہر کے ممالک میں تبلیغ کی غرض سے طوعی طور پر ایک فنڈ کے قیام میں شمولیت کی اپیل کی گئی۔لیکن دوسری عالمی جنگ چھڑ جانے کے باعث مبلغین اسلام کا پہلا گروپ ۱۹۴۵ء سے قبل باہر نہ بھجوایا جاسکا۔اس دوران میں یہ جماعت دنیا کے اور بہت سے حصوں میں بھی پھیل گئی ہے۔جہاں تک یورپ کا تعلق ہے لندن، ہمبرگ ، فرانکفورٹ ، میڈرڈ ، ہیگ، زیورخ اور سٹاک ہالم میں اس کے با قاعدہ تبلیغی مشن قائم ہیں۔امریکہ کے شہروں میں سے واشنگٹن ، لاس اینجلس ، نیویارک ، پٹسبرگ اور شکاگو میں بھی اس کی شاخیں موجود ہیں۔اس سے آگے گریناڈائٹرینیڈاڈ اور ڈچ گی آنا میں بھی یہ لوگ مصروف کار ہیں۔افریقی ممالک میں سے سیرالیون، گھانا، نائیجیریا اور مشرقی افریقہ میں بھی ان کی خاص جمعیت ہے۔مشرق وسطی اور ایشیا میں سے مسقط، دمشق، بیروت، ماریشس، برطانوی شمالی بور نیو، کولمبو، رنگون، سنگا پور اور انڈو نیشیا میں ان کے تبلیغی مشن کام کر رہے ہیں۔دوسری عالمگیر جنگ سے قبل ہی قرآن کا دنیا کی سات مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔چنانچہ اب تک ڈچ ، جرمن اور انگریزی میں پورے قرآن مجید کے تراجم عربی متن کے