تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 750 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 750

تاریخ احمدیت۔جلد 23 750 سال 1966ء صلى الله رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:۔من اطاع امیری فقد اطاعنى ومن عضی امیری فقد عصانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت رسول اکرمہ کے نائب اور ان کے خلفاء حضور کے نائب ہیں پس ان کے مقرر کردہ امیروں اور عہدیداروں کی مکمل اطاعت کیجئے۔اور یہی امر سلسلہ احمدیہ کا طرہ امتیاز ہے اور اس سلسلہ کے نظام کی اطاعت ہی میں ساری برکتیں ہیں۔خدا کرے کہ میری یہ باتیں آپ کے دل میں گھر کر جائیں اور آپ سب خدا تعالیٰ سے ان پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کی توفیق پائیں۔آمین خاکسار:۔مرزا ناصر احمد۔(خلیفة امسح الثالث ) ۲۱ مارچ ۱۹۶۶ء کا دن ایک تاریخی دن تھا جبکہ احمدیہ مشنری ٹریننگ کالج سالٹ پانڈ غانا کا افتتاح ہوا۔مولوی محمد صدیق صاحب شاہد گورداسپوری اس کے پہلے پرنسپل مقرر ہوئے۔ابتدا میں پندرہ طلبہ نے داخلہ لیا۔جونا کیجیریا، لائبیریا اور غانا سے تعلق رکھتے تھے۔کالج کے لئے تین سال کا کورس مقرر کیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ جو طلباء قابل ثابت ہوں اُن کو مرکز کی منظوری سے اعلی تعلیم کے لئے ربوہ بھجوا دیا جائے اور باقی کو حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے ارشاد کے مطابق افریقہ کے مختلف علاقوں میں متعین کر دیا جائے۔اس سال مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم امیر جماعت احمدیہ غانا کے زیر انتظام پندرہ تا سترہ جولائی کولیگوس میں مبلغین کا نفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔جس میں مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم ، محمد صدیق صاحب شاہد پرنسپل مشنری ٹریننگ کالج سالٹ پانڈ، مولانا غلام احمد صاحب بدوملہی مبلغ انچارج گیمبیا، مولوی بشارت احمد صاحب بشیر امیر ومبلغ انچارج سیرالیون ، مولوی مبارک احمد صاحب ساقی مبلغ انچارج لائبیریا، مولوی محمد افضل صاحب قریشی مبلغ انچارج آئیوری کوسٹ، الحاج شیخ نصیرالدین احمد صاحب امیر مبلغ انچارج نائیجیریا، مولوی محمد بشیر صاحب شاد مبلغ نایجیریا، مولوی منیر احمد صاحب عارف مبلغ نائیجیریا نے شرکت فرمائی۔۱۵ جولائی کی شام کو مجاہدین احمدیت نے ٹیلیویژن پر نہایت عمدگی اور احسن رنگ میں اپنے اپنے ممالک میں اسلام کی خاطر فرزندان احمدیت کی مساعی پر روشنی ڈالی اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے نائیجیریا کے طول و عرض میں ہزاروں لاکھوں افراد جماعت