تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 745
تاریخ احمدیت۔جلد 23 745 سال 1966ء آف گنی کی تھی، نے اس میں شرکت کی۔اس موقع پر عوام کے علاوہ پانچ قریبی پیراماؤنٹ چیفس، ڈائریکٹر آف ایجو کیشن گنی ، سپروائزر آف سکولز بمبالی ڈسٹرکٹ ، انسپکٹر آف پولیس اور متعدد حاجیوں اور اماموں نے شرکت کی۔اس افتتاحی تقریب کا ملکی اخباروں میں بھی ذکر ہوا۔ریڈیو سیرالیون پر کئی بار یہ خبر نشر ہوئی کہ عربی اور اسلامیات کے ماہر مسٹر ونسنٹ مونٹیل (VINCENT MONTEIL) مورخہ ۳ جون کو فوراے کالج ( یونیورسٹی کالج آف سیرالیون ) میں اسلام افریقہ میں“ کے موضوع پر تقریر کریں گے۔شہر کے مسلمانوں کو بھی اس لیکچر میں شمولیت کی خاطر ایک خاص ٹرانسپورٹ بھی مہیا کی گئی۔مولوی بشارت احمد صاحب بشیر جو عیسائیت کے تعاقب میں کسی موقعے کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے، اس لیکچر میں شامل ہوئے۔”ماہر اسلامیات نے اپنے موضوع سے ہٹ کر اسلامی تعلیمات کو اعتراضات کا نشانہ بنایا۔جس پر آپ نے تقریر کے بعد وقفہ سوالات کے دوران اوّل لیکچرار کی عربی دانی کی قلعی کھولی۔بعد ازاں اسلامی تعلیم کی حکمت پر روشنی ڈالی۔اسلام کے اس شاندار دفاع پر مسلمانوں نے بہت خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔بوا جیبو کو جماعتی اعتبار سے بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔بہت ابتدائی دنوں سے پاکستانی مبلغ یہیں مقیم تھے۔گذشتہ سال ڈاکٹر نذیر احمد صاحب نے یہاں احمد یہ ہسپتال کا آغاز کیا۔اس قصبے میں رومن کیتھولک مشن نے سیکنڈری سکول کھولنے کے لئے سر توڑ کوشش کی۔یہ معاملہ تین بار ملکی کا بینہ میں پیش ہوا۔بالآخر فیصلہ جماعت کے حق میں ہوا۔اور ایک نئے سیکنڈری سکول کھولنے کی اجازت مل گئی۔اس خوشکن خبر نے پوری جماعت میں ایک برقی رو دوڑا دی تعمیر اور فرنیچر کی فراہمی ایک مشکل مرحلہ تھا۔مگر جماعت نے صرف ڈیڑھ ماہ کے اندر تمام انتظامات مکمل کر کے یہ نیا سکول جاری کر دیا۔اس نئے اور تیسرے سکول کے اجراء پر طلباء ٹوٹ پڑے۔چار سو سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں۔مگر داخلہ ایک سو میں طلباء کو دیا گیا۔۱۱ ۱۲ ۱۳ نومبر کوفری ٹاؤن میں جماعتہائے احمد یہ سیرالیون کی سترھویں مجلس شوری احمد یہ ہال فری ٹاؤن میں منعقد ہوئی۔جس میں ملک بھر سے قریباً ایک سو نمائندگان شریک ہوئے۔مولوی بشارت احمد صاحب بشیرا میر سیرالیون کی درخواست پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ایک ولولہ انگیز پیغام ارسال فرمایا۔جس میں نمائندگان کو اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ تمام نوع انسانیت ایک روحانی انقلاب پیدا کرے۔اس انقلاب کے لئے ضروری ہے