تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 712 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 712

تاریخ احمدیت۔جلد 23 712 سال 1966ء (i) ڈاکٹر ای سی ایرکسن مع فیملی ایڈوائزر زرعی یونیورسٹی لائل پور (ii) ڈاکٹر سی بی ہارسٹن مع لڑکا (iii) این اوسینپ پروفیسر (iv) ڈاکٹرلوئیس مینس مع فیملی غیر مبائعین کی طرف سے اپنی ناکامی کا کھلا اعتراف ۱۹۱۴ء میں خلافت ثانیہ کے شروع میں غیر مبایعین کو یہ ٹھوکر لگی کہ ہم جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام نبوت کو پیش کرتے آئے ہیں اس سے غیر احمدی کچھ بدکتے ہیں ہمیں ان کے قریب ہونا چاہیئے تا کہ وہ جوق در جوق ہمارے ساتھ شامل ہوں۔اس قربت کے خیال سے انہوں نے اپنے بعض عقائد میں بھی تبدیلی کی اور عمل میں بھی فرق کر لیا۔احمد یہ خلافت کی مضبوط اور بابرکت مرکزیت کو بھی خیر باد کہہ دیا۔انہوں نے اپنے مشنوں“ اور ” ترویج علوم فرقانیہ کی بناء پر توقع رکھی کہ لوگ ہمارے گرد پروانوں کی طرح جمع ہو جائیں گے۔انہوں نے خلاف ارشاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی لڑکیوں کے رشتے غیروں میں کر دئیے۔حالانکہ ان کو معلوم ہونا چاہیئے تھا کہ الہی جماعتوں کی ترقی کا راز مامور وقت علیہ السلام کے بتائے ہوئے طریق پر گامزن ہونے میں ہوتا ہے نہ اپنی سکیموں پر عمل پیرا ہونے میں۔نصف صدی گزرنے کے بعد ان غیر مبالع بھائیوں کی آنکھیں گھل گئیں اور وہ بر ملا اپنی غلطی کا اعتراف کرنے لگے چنانچہ لکھا:۔(۱) واقعات و تجربہ نے ہمارے سامنے یہ تلخ حقیقت واضح کر دی ہے کہ اشاعت اسلام کے میدان میں ہماری ساری کامیابی کا راز ہماری جماعتی ترقی و توسیع سے وابستہ ہے۔ہم نے عام طور پر اپنی مسلمان قوم سے جو توقعات وابستہ کر رکھی تھیں کہ ہمارے مشنوں اور ترویج علوم فرقانیہ کے کارناموں کو دیکھ کر ہمارے دینی مقاصد میں لوگ از خود شمولیت و شرکت اختیار کریں گے وہ تمام حرف غلط 28 کی طرح ثابت ہوئی ہیں“۔(۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کے استحکام اور احباب سلسلہ کے باہمی تعلقات کو استوار کرنے کے لئے یہ تجویز فرمایا تھا کہ ہماری اولادوں کے رشتے ناطے جماعت کے اندر ہونے چاہئیں اور انجمن نے حتی الوسع باہمی رشتے ناطوں کے لئے کوشش بھی کی ہے لیکن افسوس ہے کہ اس سلسلہ میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔عام طور پر لڑکوں کے رشتے باہر کر لئے جاتے ہیں اور جماعت میں لڑکیوں کے رشتے تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔یہ ایک ناخوشگوار