تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 713
تاریخ احمدیت۔جلد 23 713 سال 1966ء 29 حقیقت ہے جس سے اجتناب ضروری ہے۔امام وقت کے ارشاد کی تعمیل میں ضروری ہے کہ ہم جماعت میں رشتے ناطے کریں خواہ ہمیں اس میں کوئی نقصان یا تکلیف ہی کیوں نہ برداشت کرنی پڑے۔ربوہ میں خواتین کا ایک عظیم الشان جلسہ مورخہ 4 مئی ۱۹۶۶ء کور بوہ کی احمدی خواتین نے ٹرنمارک میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی خوشی میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کیا۔یہ مسجد حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے عہد خلافت پر ۱۹۶۵ء میں نصف صدی پوری ہونے کی خوشی میں حضرت سیدہ اُتم متین مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کی تحریک پر احمدی مستورات کے چندہ سے تعمیر کی جارہی تھی۔۶ مئی ۱۹۶۶ء اس مسجد کا سنگ بنیادر کھے جانے کا دن تھا۔یہ جلسہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے ہال میں زیر صدارت محترمہ سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ منعقد ہوا۔تلاوت قرآن کریم سے جلسہ کا آغاز ہوا۔جس کے بعد حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے ایک نہایت ایمان افروز تقریر فرمائی۔جلسہ کے اختتام پر اجتماعی پر سوز دعا کی گئی۔30 راولپنڈی میں فارن مشن کا قیام اس سال تحریک جدید کے زیر انتظام فارن مشن کی ایک شاخ راولپنڈی میں کھولی گئی۔جس میں مرکزی نمائندہ مسعود احمد صاحب جہلمی نے انچارج فارن مشن کی حیثیت سے اپنے فرائض عمدگی سے انجام دیئے۔بیرونی ممالک کے مہمانوں، معززین، اعلیٰ افسروں اور ملکی نمائندوں سے رابطہ قائم کر کے ان کو سلسلہ سے متعارف کرایا اور جماعتی لٹریچر خاصی تعداد میں ھدیہ پیش کیا۔سلسلہ کے تین بزرگوں کا ذکر۔۔۔۔۔۔سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے یکم جولائی ۱۹۶۶ء میں ایک خطبہ نکاح میں سلسلہ کے دو بزرگوں راجہ علی محمد صاحب اور خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔محترم راجہ علی محمد صاحب سابق ناظر بیت المال نے جماعت کی بہت خدمت کی ہے۔۔۔۔۔محترم خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب مرحوم گورنمنٹ کی ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد ایک لمبے عرصے تک جماعت کی خدمت کرتے رہنے کی توفیق پانے والے بزرگ ہیں اور عملاً انہوں نے سلسلہ کی خدمت کرتے ہوئے ہی اپنی جان دی ہے۔