تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 689 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 689

تاریخ احمدیت۔جلد 23 689 سال 1966ء جا کر معافی مانگیں اور پھر مجھے آکر رپورٹ دیں۔ملک صاحب فرماتے تھے کہ مجھے حضور کے اس حکم سے وقتی طور پر صدمہ پہنچا کہ حضور نے مجھ سے تو کوئی وضاحت طلب ہی نہیں فرمائی نہ کوئی بات سنی اور نون صاحبان سے معافی کا حکم دے دیا ہے۔لیکن فرماتے تھے کہ بلا چون و چرا اسی وقت اول سر فیروز خان کی کوٹھی گیا۔ملک صاحب نے جب مجھے اپنی کوٹھی میں داخل ہوتے دیکھا تو بھاگ کر آئے اور میری موٹر کا دروازہ کھول کر میرے ساتھ لپٹ کر زار و قطار رونے لگے اور کہتے جاتے تھے کہ ”میں قربان جاؤں اس مرزا صاحب پر جس نے مجھ پر یہ احسان کیا ہے“ ملک سر فیروز خان صاحب نون روتے جاتے تھے اور ملک صاحب خان صاحب سے معافی مانگ رہے تھے۔ادھر ملک صاحب نے کہا کہ مجھے حضور نے معافی قبول کرنے کے لیے نہیں بلکہ معافی مانگنے بھیجا ہے۔خدا کے لیے مجھے معاف کر دو۔ان حالات میں بھلا کدورت کہاں باقی رہ سکتی تھی۔چند منٹ کے بعد ملک صاحب خان صاحب نے دوبارہ آنے کا وعدہ کیا اور اجازت چاہی کہ میں نے ابھی چھوٹے بھائی ملک میجر سردار خان صاحب کے پاس جا کر ان سے بھی معافی مانگنی ہے اور پھر حضور کور پورٹ کرنی ہے۔چنانچہ میجر سردار خان صاحب کی کوٹھی واقعہ گلبرگ تشریف لے گئے۔وہ تو چھوٹے بھائی تھے۔یہی صورت حال وہاں پر ہوئی۔دونوں بھائی ایک دوسرے سے لپٹ لپٹ کر رور ہے تھے اور میجر صاحب حضرت فضل عمر کے احسان عظیم کا ذکر کرتے تھکتے نہیں تھے۔دل صاف ہو گئے غلط فہمی دور ہوگئی۔ملک صاحب خان صاحب اسی روز حضرت فضل عمر کی خدمت اقدس میں پیش ہوئے اور یہ ساری رپورٹ سنائی۔اور حضور نے اپنے بظاہر یکطرفہ حکم صادر فرمانے کی مصلحت اور حکمت بیان فرمائی۔فرمایا ملک صاحب آپ کو میرا حکم عجیب تو لگا ہوگا کہ آپ کی بات سنے بغیر عمر میں چھوٹے عزیزوں سے معافی مانگنے کا حکم دے دیا۔حضور نے دو وجوہات بیان فرمائیں۔ایک تو یہ کہ میں حکم اپنے ارادتمند کو ہی دے سکتا تھا۔جس کے لیے میرے حکم کی پابندی واجب تھی۔دوسرے یہ کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ فدا نفسی کی بشارت کے مطابق دو روٹھے ہوئے بھائیوں میں سے جو پہل کرے اور صلح کا قدم پہلے اٹھائے وہ پانچ سو سال پہلے جنت میں جائے گا۔اس لیے حضور نے فرمایا کہ ملک صاحب آپ ہر طرح سے فائدے میں رہے۔جناب ملک صاحب فرماتے تھے مجھے حضور کی گفتگو اس قدر دل کو بھائی کہ میں نے حضرت صاحب کا دلی شکریہ ادا کیا۔حضور نے واپسی پر معالقہ سے سرفراز فرمایا اور اس طرح ایک بہت بڑا خاندان حضرت فضل عمر کی دعا اور برکت سے انتشار اور افتراق سے