تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 690 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 690

تاریخ احمدیت۔جلد 23 محفوظ ہو گیا۔690 حضرت علیہ اسح الثالث کی طرف سے نمائندہ تعزیتی وفد سال 1966ء محترم ملک صاحب ۱۷ جولائی کو ۸۴ سالہ متقیانہ زندگی گزار کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔آپ کی وفات کی خبر موصول ہونے پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی زیر ہدایت حضور کے خاص نمائندہ کی حیثیت سے محترم مولانا ابوالعطاء صاحب ربوہ سے تعزیت کے لیے فتح آبادنون تشریف لے گئے۔محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب بھی آپ کے ہمراہ تھے۔علاوہ ازیں محترم جناب مرزا عبدالحق صاحب صوبائی امیر سابق صوبہ پنجاب و بہاولپور نے سرگودھا سے بعض دیگر احباب کے ہمراہ وہاں تشریف لے جا کر تعزیت کی۔بھلوال اور بھیرہ کے بہت سے احباب بھی نمازہ جنازہ میں شرکت کے لیے وہاں پہنچ گئے تھے۔جولائی کو ساڑھے چار بجے سہ پہر محترم مولانا ابوالعطاء صاحب نے نمازہ جنازہ پڑھائی جس میں دور و نزدیک سے آئے ہوئے احباب جماعت شریک ہوئے۔نماز جنازہ کی ادا ئیگی کے بعد محترم مولانا ابوالعطاء صاحب اور محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ربوہ واپس ادائیگی تشریف لے آئے۔بعد ازاں محترم ملک صاحب مرحوم کی نعش کو اسی رات ان کے آبائی قبرستان واقع فتح آباد میں سپردخاک کر دیا گیا۔95 با با جلال الدین صاحب درویش قادیان وفات: ۱۹ جولائی ۱۹۶۶ء مولوی محمد صدیق صاحب شاہد گورداسپوری مجاہد افریقہ و امریکہ کے بہنوئی تھے۔بہت ملنسار، صابر و شاکر، سادہ مزاج اور دعا گو بزرگ تھے۔انہوں نے درویشی کا زمانہ بہت خوش دلی اور اخلاص و وفاداری کے ساتھ گزارا۔96- سارجنٹ علی حسن صاحب وفات: ۲۳ جولائی ۱۹۶۶ء آپ ۲۳ جولائی ۱۹۶۶ء کو ایک حادثے میں جاں بحق ہوئے۔احمدیت کے شیدائی اور فدائی تھے۔سلسلہ کی تحریکات میں نہ صرف خود بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے بلکہ دوسروں کو بھی تلقین کرتے۔رسالپور اور شاہدرہ میں سیکرٹری مال کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔19