تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 688 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 688

تاریخ احمدیت۔جلد 23 688 سال 1966ء تمہاری شادی کہاں ہوئی ہے؟ میں نے کہا بس آپ سے چند قدم پیچھے رہا ہوں۔کہنے لگے کیا مطلب؟ میں نے کہا آپ کی اہلیہ اول ہڈالی کی ہیں اور میری بیوی خوشاب کی۔( دونوں قصبوں کے درمیان ۹ میل کا فاصلہ ہے ) اس پر بہت ہنسے۔۔ملک صاحب سخاوت کے دریا تھے۔مرکز سے کبھی کوئی مالی تحریک نہ آئی جس میں حصہ نہ لیا ہو۔۱۹۲۲ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کے گرد کچی چاردیواری گرا کر آپ نے پختہ بنوائی۔ربوہ میں کوارٹر تحریک جدید کے سامنے ایک خوبصورت مسجد بنوائی جو مسجد محمود کہلاتی ہے۔محلہ دارالیمن کے وسط میں بھی ایک پختہ مسجد بنوائی۔ملک صاحب خفیہ طور پر روپیہ دیا کرتے تھے۔آپ سے بہت لوگ فیض یاب ہوئے۔اطاعت امام مکرم عبدالسمیع نون صاحب آپ کی اطاعت امام کے حوالہ سے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:۔حضرت فضل عمر رتن باغ لاہور میں قیام فرما تھے کہ ملک صاحب کے چھوٹے بھائی میجر ملک سردار خان صاحب نون اور جناب ملک سر فیروز خان صاحب نون کے ساتھ ملک صاحب خان صاحب کا کوئی خاندانی تنازعہ پیدا ہو گیا۔ایسی شکر رنجی تک نوبت پہنچی کہ خاندان میں کوئی شادی کی تقریب جو ہوئی تو ملک صاحب ناراضگی کی وجہ سے شامل نہیں ہوئے تھے۔جیسا کہ اوپر ذکر کر چکا ہوں ملک صاحب نون قبیلہ کے سردار مانے جاتے تھے۔تقریب شادی میں ان کی عدم موجودگی کو سب نے بہت ہی محسوس کیا اور تو نون صاحبان کی کوئی پیش نہ گئی البتہ دونوں صاحبان یعنی سابق وزیر اعظم ملک سر فیروز خان صاحب اور میجر ملک سردار خان صاحب نون حضرت فضل عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بڑی افسردگی اور پریشانی سے ذکر کیا کہ بڑے ملک صاحب ناراض ہیں اور ہمیں تو ان سے بات کرنے کی بھی ہمت نہیں ایک آپ کی ذات ہے جو خاندان کی اس پراگندگی اور انتشار کو دور کر سکتی ہے۔حضرت صاحب کے ان دونوں نون صاحبان کے ساتھ دیرہ بینہ مراسم تھے حضور نے فرمایا کہ میں کوشش کروں گا۔ملک صاحب خان صاحب نے مجھے خود یہ واقعہ سنایا کہ حضرت فضل عمر نے مجھے رتن باغ طلب فرمایا اور حکم دیا کہ دونوں ملک صاحبان یعنی سر محمد فیروز خان صاحب اور میجر سردار خان صاحب سے