تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 687 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 687

تاریخ احمدیت۔جلد 23 687 سال 1966ء نادانستہ طور پر اس کے منہ سے ایسے الفاظ نکل گئے اور کہا کہ آپ مجھے معاف کر دیں۔جب ملک صاحب رخصت ہونے لگے۔تو باوجودیکہ وہ خود چیف سیکرٹری تھے۔اور ملک صاحب اس کے ماتحت ایک مجسٹریٹ تھے۔خود دروازے تک ساتھ آیا اور دوبارہ معذرت پیش کی۔دینی غیرت کا ایک اور واقعہ بھی تحریر کیا جس میں تحریر فرماتے ہیں کہ ایک دن ملک صاحب میرے کمرے میں تشریف لائے اور ایک خط مجھے دیا کہ یہ فیروزے کا خط ہے اس کا جواب لکھ دو میں حیران کہ یہ ” فیروزہ کون ہوا؟ ملک صاحب کا ایک اردلی بڑا اکھڑ مزاج فیروز خاں نامی تھا۔میرا ذہن اُس طرف گیا میں نے سمجھا کہ کوئی گستاخی کا خط لکھا ہے۔کھولنے پر معلوم ہو کہ ملک صاحب کے تایا زاد بھائی ملک سر فیروز خان نون ( سابق وزیر اعظم پاکستان ) کا خط ہے۔اس کا جواب مجھے زبانی بتا دیا اور چلے گئے۔میں فوراً جواب لکھ کر دستخط کے لیے ان کے کمرے میں گیا تو پڑھ کر کہنے لگے ” میں نے تو اس پر دستخط نہیں کرنے تم اپنے دستخط سے بھجوا دو میں نے وہی خط اپنی طرف سے لکھ کر ملک فیروز خاں صاحب کو پوسٹ کر دیا۔چند روز بعد ملک فیروز خاں صاحب نے میرا لکھا ہوا خط یہ لکھ کر واپس کر دیا ” بھائی جان ہمیں اپنے کلرک سے تو ذلیل نہ کرائیں“۔اس کا جواب بھی ملک صاحب نے مجھ سے ہی لکھوا کر بھجوایا۔بعد میں خاکسار نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ نے خود جواب نہ دیا تو فرمایا کہ تم کو نہیں معلوم۔قادیان میں احرار کا جو جلسہ آریہ سکول کے احاطہ میں ہوا تھا اس میں فیروزے کا بہت حصہ تھا۔اس دن سے مجھے اس سے نفرت ہوگئی ہے۔ملک صاحب کی تین بڑی خواہشات تھیں۔ان کے حصول کے لئے وہ بزرگانِ سلسلہ سے دعا ئیں کراتے رہتے تھے۔آپ مولانا راجیکی صاحب، شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم وغیرہ کو خاص طور پر دعائیہ خطوط لکھتے رہتے اور ان کی خدمت میں معقول نذرانے بھی بھجوایا کرتے۔پہلی خواہش یہ تھی کہ ان کو خان بہادر کا خطاب مل جائے۔دوسری یہ کہ وہ ڈپٹی کمشنر سے ریٹائر ہوں اور تیسری یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو اولاد نرینہ عطاء فرمائے۔خدا تعالیٰ نے تینوں خواہشات پوری کر دیں۔لڑکے کا نام احمد خاں رکھا گیا۔اس خوشی کے موقعہ پر ملک صاحب نے حضرت خلیفہ مسیح الثانی کا لیکچر کمپنی باغ سرگودھا میں کرایا جو بہت کامیاب رہا۔یہ عاجز معہ اپنی اہلیہ کے بھی شریک ہوا۔پہلے ہم ملک صاحب کی کوٹھی پر گئے۔مبارک بادعرض کی۔مجھ سے دریافت کیا کہ