تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 686 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 686

تاریخ احمدیت۔جلد 23 686 سال 1966ء تیج ، درود شریف اور دیگر مسنون ادعیہ پر بہت زور دیتے تھے سردیوں میں نماز عشاء کے بعد تیز گرم پانی کا آفتابہ نمدے سے ڈھانپ کر ایک طرف رکھ دیا جاتا تھا تا کہ نماز تہجد کے وقت پانی نیم گرم مل سکے۔تہجد کی نماز بڑی باقاعدگی سے ادا کرتے تھے اور اس کے بعد نماز فجر تک مصلے پر بیٹھے رہتے تھے۔میں نے کبھی نماز بے وقت پڑھتے ہوئے انہیں نہیں دیکھا۔صدقہ خیرات کثرت سے دیتے تھے۔جب دورہ پر ہوتے تو مساجد میں تیل ڈلوایا کرتے تھے مگر جب علم ہوا کہ ارد لی رقم ہضم کر جاتا ہے تو یہ ڈیوٹی میرے ذمہ لگی کہ خود جا کر تیل ڈالا کروں۔جماعتی چندے بڑی باقاعدگی اور شوق سے ادا کیا کرتے تھے اس زمانے میں ہر ماہ کا میزان ۲۲۰ روپے ہوتا تھا۔میں منی آرڈر کی رسید دکھاتا تب اطمینان ہوتا تھا۔ایک دن میں ڈاک خانے جا رہا تھا۔ایک ہند و وکیل میرے ہمراہ چل رہا تھا۔وہ پوچھنے لگا کہ یہ رقم ملک صاحب اپنے گھر بیوی کو بھجوا رہے ہیں؟ میں نے کہا نہیں یہ جماعتی چندوں کی رقم ہے۔وہ نہایت خوفزدہ سا ہو کر کہنے لگا تو پھر یہ بچاتے کیا ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ خدا کے بنک میں بھی تو BALANCE ہونا چاہئے جس پر وہ بہت خوش ہوا مگر ساتھ ہی کہنے لگا کہ ”مہاراج کوئی ہندو کا بیٹا یہ کام نہیں کرسکتا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی سے والہانہ محبت تھی اور بڑا ادب کیا کرتے تھے۔جب ۱۹۳۴ء میں تحریک جدید کا آغاز ہوا اور انہیں (۱۹) مطالبات کا اخبار میں اعلان ہوا تو پہلے ان کا خلاصہ تیار کیا۔پھر مجھ سے تیار کرایا اور مقابلہ کر کے جب دیکھ لیا کہ دونوں تقریباً برابر ہیں تو ایک نقل خوش خط لکھوا کر گھر بھجوائی کہ اسے ہر وقت پیش نظر رکھو اور اس پر سختی سے عمل کرو۔حضرت خلیفہ ثانی کی ذات سے والہانہ عشق کا ایک واقعہ تحریر کرتے ہیں کہ احرار نے جب جماعت احمدیہ کے خلاف ۱۹۳۵ء میں طوفان اٹھایا انہی دنوں ملک صاحب پنجاب گورنمنٹ کے چیف سیکرٹری سی سی گاربٹ کی کوٹھی پر کھانا کھا رہے تھے۔دوران گفتگو گار بٹ صاحب کے منہ سے حضرت صاحب کی شان میں کچھ بے ادبی کے الفاظ نکل گئے۔ملک صاحب کو بڑا طیش آیا۔جھٹ ایک پلیٹ اٹھا کر صاحب کے سر پر دے ماری اور اسے ڈانٹ کر کہا کہ تم کو معلوم ہونا چاہئے میں ان کا ادنی سا خادم ہوں۔انگریزوں میں صفت بہت خوب تھی کہ ایسے موقعوں پر جھٹ سنبھل جایا کرتے اور معافی مانگنے لگ جاتے تھے۔گاربٹ نے بھی جھٹ ملک صاحب سے معذرت کی اور افسوس ظاہر کیا کہ بالکل