تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 681 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 681

تاریخ احمدیت۔جلد23 681 سال 1966ء شغف تھا اور اسلامی فلسفہ قرآن شریف سے نکالتے تھے جو بہت ہی لطیف نکات پر مبنی ہوتا تھا۔جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے آپ ۳۲ سال تک بج رہے اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں تعینات رہے۔بطور حج دو باتیں آپ کے اندر نہایت معروف اور ممتاز تھیں۔آپ کی دیانت اور امانت اور بے لاگ انصاف کا شہرہ دور ونزدیک تھا۔اس کے علاوہ معاملہ نہی اور قانون دانی میں آپ کو بینظیر مہارت تھی اور جوڈیشنل افسر اور بڑے بڑے قابل وکلاء آپ کی قانونی قابلیت کا لوہا مانتے تھے۔کسی کی شخصیت سے انصاف کے معاملہ میں آپ متاثر نہ ہوتے تھے اور آپ کا قاعدہ تھا کہ ہر مقدمہ کا فیصلہ دوٹوک اور کانٹے کی تول کرتے۔جتنا عرصہ آپ ملازم رہے خدا ترسی سے آپ نے اپنے فرائض منصبی ادا کئے۔اور پنجاب بھر میں بہت کم ایسے جوڈیشنل حکام ہوں گے جو چوہدری صاحب مرحوم کے مرتبے تک پہنچ سکیں۔جو شخص حجی کی حالت میں قرآن شریف حفظ کرے اور قرآن شریف کا ورداس کا معمول ہو ضروری ہے کہ اس کے فیصلے خدا ترسی اور بے لاگ انصاف پر مبنی ہوں۔گویا آپ کی ملا زمت بھی خلق اللہ کی خدمت اور ایک قسم کی عبادت تھی۔آپ کے احمدی ہونے کا واقعہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔آپ کو غیر مبائعین کا لٹریچر دستیاب ہوا۔اس کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ نے تحقیق حق کرنی چاہی اور مبائعین کا لٹریچر بھی بغور مطالعہ کیا۔بطور حج کے آپ کو حق و باطل کو پر رکھنے میں ید طولیٰ حاصل تھا۔دونوں طرف کے دلائل کا موازنہ کرنے کے بعد آپ نے بڑے انشراح صدر سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بیعت کی۔چونکہ آپ بڑے معاملہ فہم اور تجربہ کار شخص تھے اس لئے جماعتی کاموں میں آپ کو مشورہ دینے کا موقع ملتا رہا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی مقررکردہ کمیٹیوں میں بہت دفعہ آپ کو شامل کیا گیا۔اسی طرح جلسہ سالانہ کے موقعہ پر اکثر مرتبہ آپ کو ایک نہ ایک اجلاس کی صدارت کرنے کا موقع ملا نیز حضرت خلیفتہ المسیح الثانی آپ کو بجٹ کمیٹی کا صدر بھی مقرر فرمایا کرتے تھے۔اپنے تقویٰ اور اخلاص کی وجہ سے آپ جماعت کے کاموں میں آگے بڑھتے چلے گئے اگر چہ آپ بعد میں آئے تھے۔الحاج خان بہادر ملک صاحب خان نون صاحب ریٹائر ڈ ڈپٹی کمشنر 766 وفات : ۱۷ جولائی ۱۹۶۶ء آپ فتح آبادنون متصل بھلوال ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔سلسلہ احمدیہ کے ایک نہایت مخلص اور مخیر بزرگ جن کی مالی خدمات اور فیاضیوں کا دامن ۱۹۱۱ء سے تادم زیست پوری شان اور