تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 682 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 682

تاریخ احمدیت۔جلد 23 682 سال 1966ء جذبہ ایمان سے جاری رہا۔آپ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے عہد مبارک کے چوتھے سال قدرت ثانیہ کے مظہر اول کے دست مبارک پر بیعت کر کے داخل احمدیت ہوئے تھے چنانچہ آپ نے ۲۷ نومبر ۱۹۵۶ء کو جبکہ آپ سول لائن سرگودھا میں قیام فرما تھے حسب ذیل تحریر سپرد قلم فرمائی:۔جو کچھ میں تحریر کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر تحریر کرتا ہوں۔مولوی صاحبان کے خیال کے مطابق کہ جب عیسی اور مہدی آئے گا تو ساری دنیا کو فتح کر کے اسلام پھیلا دیگا میری خواہش تھی کہ وہ زمانہ اور فتوحات دیکھ لوں۔میں بچپن سے تہجد پڑھا کرتا تھا۔متواتر نماز تہجد میں دعائیں کیا کرتا کہ وہ زمانہ آوے۔آخر اللہ تعالیٰ نے میری دُعا قبول فرمالی۔اور ۱۹۱۱ء میں جب میں سیالکوٹ تھا۔ایک دن تہجد کے بعد جو سویا تو خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا در بار ہے اور معلوم ہوا کہ حبیب اللہ آ رہا ہے ایک گورا فوج (رسالہ) بھاری تعداد میں موجود ہے۔میں دل میں کہتا ہوں کہ پہلے بھی حبیب اللہ آیا اور میں نے نہ دیکھا۔اب ضرور دیکھوں گا۔چنانچہ میں ایک طرف کو گیا ہوں وہاں لوگوں کا کافی ہجوم ہے۔ایک ریلوے اسٹیشن ہے لوہے کا جنگلا لگا ہوا ہے تا کہ لوگ پیچھے رہیں۔مگر میں آگے کسی طرح پلیٹ فارم پر چلا گیا ہوں۔سامنے ایک عظیم الشان انجن ہے جس پر دربار ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ لگائے رُو بہ شرق بیٹھے ہیں اور ایک شخص کوئی تین قدم فاصلے پر شاندار لباس میں کھڑا کانوں میں انگلیاں ڈال کر اللہ اکبر، اللہ اکبرزور زور سے کہہ رہا ہے۔پاؤں میں پتلون ہے کوٹ زیادہ لمبا نہیں سر پر دستار مبارک ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب چار بزرگ بیٹھے ہیں۔اُنکے پیچھے بہت بڑی تعداد بزرگان کی ہے، گورا رسالہ کا لباس سفید اور ہاتھ میں ننگی تلواریں تھیں۔اس سر بفلک انجن کے جانب غرب ایک انجن گول چکر لگا رہا ہے اور اس سے ایک نہایت سُریلی آواز نکل رہی ہے۔میں دل میں کہتا ہوں کہ پہلے بھی حبیب اللہ آیا اور میں نے نہ دیکھا۔اب جی بھر کر دیکھ لوں۔دیکھتا ہوں۔سُریلی آواز نے مجھے بے ہوش کر دیا۔لڑکھڑایا اور سنبھلا۔جب میں جا گا تو وہی آواز میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔میں نے سمجھا کہ جو بزرگ تکیہ لگائے بیٹھے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بائیں چار بزرگ خلفاء راشدین۔مگر اذان کہنے والے بزرگ کے متعلق دریافت کرنے کے لیے میں علی اصبح ہی شہر جا کر حضرت سید حامد شاہ صاحب مرحوم و مغفور سے ملا۔وہاں جاکر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فوٹو دیکھا تو پہچان لیا کہ وہ یہی بزرگ تھے۔میں نے اُسی وقت بیعت کا خط لکھدیا اور احمدیت قبول کر لی۔پہلے میں احمدیت کا سخت مخالف تھا اور