تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 680 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 680

تاریخ احمدیت۔جلد 23 680 سال 1966ء مشاق ہوا باز تھے۔آپ نے جنگ ستمبر ۱۹۶۵ء کے موقع پر پاکستان کا کامیابی سے دفاع کیا اور جرأت و بہادری کے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ڈاکٹر قاضی محمد لطیف صاحب جے پوری وفات: ۷ جون ۱۹۶۶ء۔مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی حضرت ڈاکٹر قاضی محبوب عالم صاحب کے فرزند تھے جو اپنے چھوٹے بھائی کی معیت میں تقسیم ملک کے بعد بھی جے پور میں ہی آبادر ہے۔اپنے والد ماجد کی مقدس روایت کے مطابق آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان خصوصاً حضرت مصلح موعود سے ذاتی تعلق قائم رکھا۔وہ جے پور سے نیا لبادہ بنوا کر سالانہ جلسہ کی تقریب پر حضرت مصلح موعود کی خدمت میں پیش کرتے اور پرانا لبادہ حضور سے تبرک کے طور پر لے جاتے۔بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔سلسلہ سے عجیب قسم کا خاموش اخلاص اور سلسلہ کی شخصیتوں سے گہرا لگاؤ اور محبت رکھنے والے اور سلسلہ کے مہمانوں کی خاطر مدارات کرنے والے تھے۔پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے کے الفاظ میں آپ اندھیرے میں ایک شمع تھے۔اپنی مصروفیات کے باوجو د سلسلہ کی کتابوں کا بالاستیعاب مطالعہ کیا اور دینی علوم میں خوب درک حاصل کیا۔تقریر اور خطابت بھی سیکھ لی۔اپنے علم کی وجہ سے نہایت درجہ ہر دل عزیز تھے۔تبلیغ کا بہت شوق تھا۔فرمایا کرتے تھے کہ ہماری پانچویں پشت اب احمدیت میں چل رہی ہے۔خان بہادر چوہدری نعمت خاں صاحب وفات: ۱۵،۱۴ جولائی ۱۹۶۶ء 89 حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ تحریر فرماتے ہیں:۔چوہدری صاحب مرحوم موضع بیگم پور ضلع ہوشیار پور کے رہنے والے تھے۔اے۔بی کورس حساب کا مضمون لے کر آپ نے بی۔اے پاس کیا۔اس کے کچھ عرصہ بعد ۱۹۰۴ء میں آپ سب حج مقرر ہوئے اور ترقی کرتے کرتے دہلی سے بطور ڈسٹرکٹ حج ۱۹۳۶ء میں پنشن پا کر ریٹائر ہوئے۔گویا آپ نے ۳۲ سال ملازمت کی اور اس کے بعد ۳۰ سال تک پنشن پائی۔ملازمت کے دوران میں ہی قرآن مجید حفظ کیا۔اور ہمیشہ قرآن شریف کا دور جاری رکھا اور آخری بیماری تک قرآن شریف کا دور کرنا آپ کا معمول تھا۔قرآنی حقائق و معارف سے آپ کو خاص دلبستگی اور