تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 675 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 675

تاریخ احمدیت۔جلد 23 675 سال 1966ء جب اس کے باوجود مجمع مشتعل رہا اور مکان میں گھس کر جانی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیتا رہا تو مرحوم مومنانہ جرأت اور ہمت سے ایک چھر رہا تھ میں لیکر اپنے مکان کی حدود میں اپنا دروازہ روک کر کھڑے ہو گئے اور بانگِ دہل یہ اعلان کر دیا کہ مرنا تو ہر ایک نے ایک ہی مرتبہ ہے کیوں نہ سچائی کی خاطر جان کی بازی لگادی جائے۔اب اگر تم میں کسی باپ کے بیٹے میں جرات ہے کہ بُری نیت سے میرے مکان میں گھسنے کی کوشش کرے تو آگے بڑھ کر دیکھ لے کہ اس کا کیا حشر ہوگا۔مکان کی دوسری سمت سے حاجی صاحب مرحوم کی بہادر لڑ کی باہر نکل آئی اور ہاتھوں میں ایک مضبوط ملائی تلوار نہایت جرات سے گھماتے ہوئے اس نے بھی سارے مجمع کو یہ کہتے ہوئے چیلنج کیا کہ میرے والد جب سے احمدی ہوئے ہیں۔میں نے ان میں کوئی خلاف شرع یا غیر اسلامی بات نہیں دیکھی۔بلکہ ایمان اور عملی ہر لحاظ سے وہ پہلے سے زیادہ پکے مسلمان اور اسلام کے شیدائی معلوم ہوتے ہیں۔اس لئے تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ احمدیت نے انہیں اسلام سے مُر مذ کر دیا ہے۔پس اگر آپ لوگوں میں سے کسی نے میرے باپ پر حملہ کرنے کی جرات کی یا نا جائز طور پر ہمارے گھر میں گھنے کی کوشش کی تو وہ جان لے کہ اس کی خیر نہیں۔اگر چہ میں عورت ہوں تا ہم تم یا درکھو کہ تمہارے حملے کی صورت میں اس تلوار سے تین چار کو مار گرانے سے پہلے نہیں مروں گی۔اب جس کا جی چاہے آگے بڑھ کر اپنی قسمت آزما لے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس مشتعل مجمع پر ایسا رعب طاری کیا کہ باوجود اس کے کہ لوکل ملائی پولیس کے بعض افراد وہاں کھڑے قیام امن کے بہانے مخالفین احمدیت کی کھلی تائید کر رہے تھے۔پھر بھی مجمع میں سے کسی فرد کو بھی مکرم حاجی صاحب کے گھر میں گھنے یا حملہ کرنے کی جرات نہ ہوئی۔آخر جب کافی وقت گئے تک وہ لوگ منتشر نہ ہوئے تو حاجی صاحب مرحوم نے اُن کو مخاطب کر کے کہا کہ میں خدا کے فضل سے احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے بھی مسلمان تھا اور قبول احمدیت کے بعد تو زیادہ پکے طور پر مسلمان ہو گیا ہوں۔کیونکہ احمدیت اسلام ہی کا دوسرا نام ہے۔اس پر مخالفین شرمندہ ہو کر آہستہ آہستہ منتشر ہو گئے۔حاجی صاحب مرحوم کو تبلیغ کا بہت شوق تھا اور آپ نہایت صاف گو، نڈر، ملنسار مخلص اور باعمل احمدی تھے۔الحاج محمد عبد اللہ صاحب سابق ناظر بیت المال وفات ۲۹ ۳۰ جنوری ۱۹۶۶ء ۱۹۱۴ء میں حضرت مصلح موعود کے دست مبارک پر بیعت کی۔۱۹۴۹ء میں سرکاری ملازمت