تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 664
تاریخ احمدیت۔جلد 23 664 سال 1966ء (غیر مطبوعہ مقالہ احمد حسین صاحب شاہد ) ۱۹۶۹ ء۔۱۹۷۰ء۔یہ مقالہ جامعہ احمد یہ ربوہ کی لائبریری میں موجود ہے۔) نغمہ اکمل (مرتبہ عبدالرحمن جنید ہاشمی ناشر مکتبہ یادگار اکمل دارالصدر شرقی ربوه ستمبر ۱۹۶۷ء ) ( مجموعه کلام ۱۹۰۷ ء تا ۱۹۶۵ء) مسئلہ ختم نبوت اور احمدیت (ٹریکٹ) اولاد مکرم خورشید عاقل صاحب، مکرم جمشید احسن صاحب، مکرم عبدالمنان مبشر صاحب، مکرم عبدالرحمن جنید ہاشمی صاحب ( آفس سپرنٹنڈنٹ تعلیم الاسلام کا لج ربوہ و نائب ناظر بیت المال۔وفات ۲۲ جولائی ۱۹۷۳ء)، مکرم عبد الرحیم شبلی صاحب (بی کام) ایڈیٹر زمیندار، ملت، نائب ایڈیٹر اخبار پاکستان ٹائمنز لاہور 62 حضرت ڈاکٹر گو ہر دین صاحب کوٹ فتح خاں ولادت: ۱۸۸۹ء بیعت : ۱۸۹۹ء وفات: ۴ نومبر ۱۹۶۶ء 3 حضرت ڈاکٹر گوہر دین صاحب کا تعلق موضع نکو در تحصیل فتح جنگ ضلع اٹک سے تھا۔ان کے بڑے بھائی وہاں مسجد میں امام تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام وہاں بھی کسی طرح پہنچا، آپ ایمان لے آئے۔اور اعلان کر دیا کہ میں نے حق کو قبول کر لیا ہے۔دونوں بھائیوں پر تشدد کر کے گاؤں سے نکال دیا گیا۔دونوں بھائی ہجرت کر کے قادیان پہنچ گئے۔ملک سلطان رشید صاحب سابق امیر ضلع اٹک کے بیان کے مطابق ان کی والدہ مرحومہ (عائشہ صدیقہ بنت حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب) بیان کرتی تھیں کہ میں نے چار پائیاں بنتے خود انہیں دیکھا ہے۔اس کا تھوڑا بہت کچھ معاوضہ مل جاتا تھا۔چھوٹے بھائی نے تعلیم حاصل کی۔لاہور میڈیکل سکول میں داخل ہوئے۔وہاں پڑھ رہے تھے کہ ٹی بی ہوگئی۔جو ان دنوں لاعلاج مرض تھا۔ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ پڑھائی چھوڑ کر گھر چلے جاؤ۔تمہارا زیادہ وقت ابھی باقی نہیں رہا۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خط لکھا۔جو خط جواب میں حضور کی طرف سے آیا اس کو دیکھنے کی سعادت اس عاجز ( ملک سلطان رشید ) کو نصیب ہوئی۔چونکہ اس بات پر تقریباً چالیس سال گزر چکے ہیں۔الفاظ ٹھیک یاد نہیں رہے لیکن جو کچھ یاد ہے وہ اس سے کچھ ملتا جلتا تھا کہ ”پڑھائی نہیں چھوڑنی ، میں نے دعا کی ہے تم لمبی عمر پاؤ گے۔جب میں نے وہ خط دیکھا اس