تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 665
تاریخ احمدیت۔جلد 23 665 سال 1966ء وقت ان کی عمر یقین ۸۰ برس سے تجاوز کر چکی تھی۔ان کی پہلی شادی اپنے خاندان میں ہوئی۔ان سے ایک بیٹے کرنل نورالدین صاحب مرحوم تھے۔سروس کے دوران مختلف شہروں میں تعینات رہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی اپنا پرائیویٹ کلینک کھول لیا۔ان کی وفات راولپنڈی میں ہوئی اور اسلام آباد کے قبرستان میں دفن ہوئے۔حضرت گوہر دین صاحب کی پہلی شادی اپنے خاندان میں ہوئی جبکہ دوسری شادی میری والدہ مرحومہ کی خالہ محترمہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ سے ہوئی جو کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول کی نواسی تھیں۔ان سے تین بیٹے ہوئے۔محترم صلاح الدین صاحب مرحوم محترم ظہیر الدین صاحب اور جلال الدین اکبر صاحب مرحوم۔حضرت ڈاکٹر گوہر دین صاحب سروس کے دوران کافی عرصہ برما میں قیام پذیر رہے کیونکہ اس وقت وہ بھی انگریزوں کے زیر تسلط تھا۔ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ ثمن ضلع چکوال کی سرکاری ڈسپنسری کے انچارج رہے جو ان دنوں اٹک میں ہی شامل تھا۔اس کے بعد یونین کونسل کوٹ فتح خان ضلع اٹک کی ڈسپنسری کے انچارج رہے۔میرے والد صاحب مرحوم ( محترم کرنل ملک سلطان محمد خان صاحب سابق صدر کوٹ فتح خان و امیر ضلع اٹک۔ناقل ) کی وفات جو کہ ۱۹۶۳ء میں ہوئی کے بعد تین سال تک جماعت کوٹ فتح خان کے صدر رہے۔حضرت ڈاکٹر گو ہردین صاحب کی وفات نومبر ۱۹۶۶ء میں ہوئی۔جنازہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے پڑھایا۔بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔عام لوگوں کے ساتھ بہت شفقت کا سلوک تھا۔اکثر علاج بلا معاوضہ ہی کرتے تھے۔میرے علم میں ہے کہ آخری عمر میں بچوں کا اصرار تھا کہ آپ اب آرام کریں اور ہمیں خدمت کا موقعہ دیں لیکن انہوں نے ہمیشہ یہی جواب دیا کہ جب تک میں خود کام کر سکتا ہوں اس وقت تک معمول یہی رہے گا۔ہم پر بے حد شفقت فرماتے تھے جس میں میرے والد صاحب کی وفات کے بعد اور بھی اضافہ ہو گیا۔ہر وقت مسکراتے رہنا ان کی ایک خاص عادت تھی۔جس رات وفات ہوئی جو دوست تیمار داری کے لئے پاس تھے انہوں نے جسم دبانے کے لئے ہاتھ رکھا تو اپنے ہاتھ سے انکا ہا تھ پرے کرتے ہوئے فرمایا بس اب رہنے دیں، جانے کا وقت آگیا ہے۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب کا بیان ہے:۔64 حضرت ڈاکٹر صاحب اور یہ عاجز ۱۹۰۹ء سے ۱۹۱۲ ء تک میڈیکل بورڈنگ کے ایک ہی کمرہ