تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 43 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 43

تاریخ احمدیت۔جلد 23 43 سال 1965ء دوسری خبر۔” پاکستان سے ایک مذہبی وفد کی آمد کے زیر عنوان لکھا کہ:۔( ترجمہ ) ایک اسلامی پاکستانی وفد جو مغربی افریقہ کا دورہ کر رہا ہے کل بارہ بجگر چالیس منٹ پر ائیر پورٹ پر پہنچا یہ وفد جیسا کہ ایک گزشتہ اشاعت میں بیان کر چکے ہیں مرزا مبارک احمد صاحب قائد اسلامی مراکز اور ان کے سیکرٹری سید مسعود احمد صاحب پر مشتمل ہے۔اس وفد کے استقبال کے لئے لوکل احمد یہ مشن انچارج قریشی محمد افضل بمع احباب جماعت موجود تھے جب پریس والوں نے آپ سے وفد کی آمد کا مقصد دریافت کیا تو مرزا صاحب نے فرمایا کہ جماعت احمدیہ کی بنیاد ۱۸۸۹ء سے قائم ہوئی ہے اس جماعت کی بتلائی ہوئی اسلامی تعلیم ساری دنیا میں قلوب کو جذب کر رہی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ ہم یہاں آئے ہیں تا کہ جماعت احمدیہ کے افراد سے ذاتی تعلقات قائم کر کے یہاں پر اشاعت اسلام کا وسیع تر منصوبہ بنایا جائے۔آبی جان کے بعد آپ لائبیریا، سیرالیون اور یورپین ممالک میں جائیں گے۔جب آپ سے احمدیہ فریج عربک سکول کے بارہ میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ہم دوسرے ممالک میں متعدد انگلش عربک سکولز قائم کر چکے ہیں جو نہایت کامیابی سے مسلمانوں کی خدمت کر رہے ہیں اسی طریق پر ہمارا ارادہ ہے کہ یہاں کے حالات کا جائزہ لے کر یہاں بھی اسی قسم کے سکول مسلمانوں کی بہبودی کی خاطر قائم کئے جائیں۔سیرالیون سیرالیون میں تقریباً سارا عرصہ قیام کے دوران براڈ کاسٹنگ اور ٹیلی ویژن والوں نے نہایت ہی اہم کردار ادا کیا۔تقریب ہر تقریر کی ریکارڈنگ کی اور ٹیلی ویژن کے لئے تصاویر لیں۔میاں صاحب نے وزیر اعلیٰ، وزیر خارجہ اور وزیر مواصلات اور دیگر چوٹی کے لیڈروں سے ملاقاتیں کیں۔سب نے ہی جماعت احمدیہ کی ملی خدمات کا کھلا اعتراف کیا۔وزیر مواصلات نے کہا اگر احمدی مبلغین ان علاقوں میں آکر تبلیغ اسلام نہ کرتے اور مسلمان بچوں کی تعلیم کے لئے سکولوں کا اجرا نہ کرتے تو اب تک مسلمان ڈھونڈے سے نہ ملتے۔آپ نے فرمایا احمد یہ مشن کے قیام سے قبل مسلمان نہایت پسماندہ حالت میں تھے نہ انہیں کوئی سیاسی پوزیشن حاصل تھی اور نہ سماجی۔بلکہ وہ ایک قابل نفرت قوم سمجھے جاتے تھے تعلیم تو ان میں تھی ہی نہیں کیونکہ مسلمانوں کے جو بچے عیسائی سکولوں میں تعلیم کے لئے بھیجے جاتے تھے وہ تعلیم ختم کرنے سے قبل بپتسمہ لے کر عیسائی ہو جاتے تھے اور اس طرح تعلیم یافتہ عیسائیوں کی تعداد تو بڑھ رہی تھی لیکن مسلمانوں میں کوئی 19