تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 44
تاریخ احمدیت۔جلد 23 44 سال 1965ء تعلیم یافتہ طبقہ پیدا نہیں ہوا تھا۔وزیر مواصلات نے ان امور کا ذکر کرتے ہوئے کہا حقیقت میں سیرالیون کے مسلمانوں کی آئندہ نسلیں بھی احمدیت کے احسان کی زیر بار ر ہیں گی اور تاریخ کبھی اس بات کو فراموش نہ کر سکے گی که سیرالیون کے مسلمانوں کی بروقت اور صحیح امداد کو اگر کوئی آیا تو وہ صرف احمدی مبلغین تھے۔سپین : یہاں صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے احمدی احباب کے علاوہ غیر از جماعت معززین سے بھی ملاقاتیں کیں۔جن میں اسلام پر دو کتابوں کے مصنف اور فوجی افسر SIR FERNANDO FRADE ، غرناطہ کے ایک سپینش مصنف DR۔ANTONIO ALARCON اور پرنس عماد الدین خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔سپین کے ایک کثیر الاشاعت اخبار نے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب اور مولانا کرم الہی صاحب ظفر کی فوٹو شائع کر کے لکھا کہ جماعت احمد یہ دنیا میں روحانی انقلاب برپا کرنے کے لئے قائم ہوئی ہے۔انگلستان: ۲۵ مئی ۱۹۶۵ء کو آپ نے ساؤتھ ہال کی نئی مسجد کا افتتاح فرمایا۔خدا کے اس گھر کے لئے جماعت احمد یہ انگلستان نے باہمی چندوں کے ذریعہ فنڈ خود فراہم کئے تھے اس موقعہ پر جناب بشیر احمد خان صاحب رفیق امام مسجد فضل لندن اور حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے حاضرین سے خطاب فرمایا اور حاضرین کو باطنی پاکیزگی حاصل کرنے ، اپنی خدا داد صلاحیتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے اور لہی وقف کرنے کی تلقین فرمائی۔مغربی جرمنی: ۴ جون ۱۹۶۵ء کو آپ نے ہمبرگ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا اور پریس کے نمائندگان کے سوالات کے جوابات دیئے۔اس پریس کانفرنس کا ذکر ہمبرگ کی ایک اہم روزنامه اخبار ABENDECHO نے اپنی ۵ جون ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں میاں صاحب کی فوٹو کے ساتھ ہمبرگ میں بطور مہمان“ کے عنوان کے ساتھ ایک اہم نوٹ سپر داشاعت کیا۔چنانچہ لکھا:۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب جماعت احمدیہ کے تبلیغی مشنوں کے پریذیڈنٹ ہیں اس جماعت کے اسلامی مشن تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور جماعت کا مرکز ربوہ پاکستان ہے صاحبزادہ صاحب اپنے مشنوں کا اکثر دورہ کرتے رہتے ہیں۔۴ جون کو انہوں نے پریس کانفرنس میں اپنے حالیہ دورہ مغربی افریقہ کے خوشکن حالات بیان کئے۔انہوں نے اسلامی مشنوں کی کامیابی کے حالات بالخصوص لائبیریا ، نائیجیریا، غانا اور سیرالیون میں جماعت احمدیہ کی کامیابی پر تبصرہ کیا اور کہا