تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 589 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 589

تاریخ احمدیت۔جلد 23 589 سال 1966ء سمجھی گئیں۔ترمیم شدہ سفارشات صدر انجمن احمد یہ میں بھجوائی گئیں۔صدرانجمن احمدیہ نے اپنے اجلاس منعقده ۲۴ را گست ۱۹۶۵ء میں کمیٹی کو اجازت مرحمت فرمائی کہ انجمن کی منظور شدہ تازہ ہدایات اور ترمیمات کے مطابق نقشہ منظور کروا کر کام شروع کیا جائے۔کمیٹی نے محترم جناب عبدالغنی صاحب رشدی کو ضروری ہدایات اور تفصیلات سے اطلاع دی اور نقشہ بنانے کے لئے ان سے درخواست کی گئی۔ستمبر ۱۹۶۵ء میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔جنگ ختم ہونے پر ایک عرصہ تک ملک ہنگامی حالات سے متاثر رہا۔حالات کے سازگار ہونے پر قبل اس کے کہ تعمیر کا کام شروع کیا جا تا۔نومبر ۱۹۶۵ء میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی وفات المناک کا سانحہ جماعت کو پیش آیا۔ان وجوہ اور حالات کی بناء پر جامع مسجد کی تعمیر کا کام التواء میں رہا۔خلافت ثالثہ کے بابرکت دور کے آغاز پر جونہی حالات نے پلٹا کھایا اور فضا سازگار ہوئی تو اس کام کی طرف پھر توجہ دی گئی۔حضور کے ارشاد کی تعمیل میں کمیٹی کا اجلاس ہوا۔اور ایک اجلاس حضور نے قصر خلافت میں بلایا اور فوری طور پر کام شروع کرنے کے لئے ہدایت فرمائی۔اللہ تعالیٰ محترم رشدی صاحب کو جزائے خیر دے۔وہ باوجود روز مرہ کی مصروفیات کے حضور کی تازہ ہدایات کے پیش نظر از سرنو نقشوں کے تیار کرنے میں مصروف ہو گئے۔انہیں حضور کی ہدایت کے مطابق ٹھٹھہ کی مسجد دیکھنے کے لئے بھی بھجوایا گیا۔کمیٹی نے اس سے قبل انجینئروں کی معیت میں واہ کی مسجد کو بھی دیکھا۔لاہور کی شاہی مسجد اور دہلی کی جامع مسجد کے نقشوں کو بھی پیش نظر رکھا گیا۔ایک عظیم اور وسیع مسجد کی تعمیر کے لئے ایک لاکھ روپے کا سابقہ اندازہ بہت کم سمجھا گیا۔نئے اندازوں کے مطابق جامع مسجد کی تعمیر کے لئے چار لاکھ روپیہ کی ضرورت ہوگی۔میاں محمد صدیق بانی صاحب کو جنہوں نے ایک لاکھ روپے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔اس صورت حال کی اطلاع ملی تو انہوں نے اس ساری رقم کو بخوشی قبول کرتے ہوئے نئے اندازے کے مطابق ساری مطلو به رقم مہیا کر دی۔140- میاں محمد صدیق بانی صاحب فرماتے ہیں کہ : ربوہ کا بطور مرکز سلسلہ بنائے جانے کے فیصلہ کے بعد حضرت مصلح موعود کی طرف سے الفضل میں اپیل کی گئی کہ ربوہ میں مسجد کی تعمیر کے لئے احباب وعدے کریں اور جلد ادا ئیگی کریں۔اس پر میں نے فوراً ایک بڑی رقم کا چیک حضور کی خدمت میں بھیج دیا۔اس پر حضور نے اس مسجد کی تعمیر کے دیگر