تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 590
تاریخ احمدیت۔جلد 23 590 سال 1966ء کوائف کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل فرمائی۔کمیٹی کا جائزہ میری پیش کردہ رقم سے تین گنا تھا۔حضور کی ہدایت پر مجھ سے دریافت کیا گیا آیا میں مزید مطلوبہ رقم فراہم کرسکتا ہوں۔یا اس بارے میں احباب جماعت کو تحریک کی جائے۔میں نے خط ملتے ہی فور أخط لکھا کہ مطلوبہ رقم فراہم کرنے کا میں وعدہ کرتا ہوں۔لیکن کچھ عرصہ بعد الفضل میں اس رقم کے بارے میں تحریک دیکھ کر میں حیران ہوا کہ میں تو رقم مہیا کرنے کا وعدہ بھجوا چکا ہوں۔پھر یہ تحریک کیوں اور کس طرح کی گئی ہے۔اور میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں لکھا کہ میں اس تحریک سے سمجھا ہوں کہ میرا خط حضور کی خدمت میں نہیں پہنچا، یا یہ بات ہے کہ اس کے علاوہ رقم کی ضرورت ہے۔اس پر تلاش کروانے پر پرانی ڈاک میں سے میرا خط ان کھلا برآمد ہوا۔حضور نے اس کی رسیدگی سے مجھے اطلاع بھجوائی۔اور اظہار مسرت فرمایا کہ یہ رقم مسجد کی تعمیر کے لئے کافی ہوگی۔تعمیر شروع ہونے پر میں نے ثواب کی خاطر حضور کی خدمت میں تحریر کیا کہ اس سلسلہ میں مزید رقم درکار ہو تو وہ بھی میری طرف سے مہیا ہوگی۔کسی اور سے وصول نہ کی جائے۔چنانچہ تعمیر کے ساتھ ساتھ میری طرف سے اخراجات مہیا کئے جاتے رہے۔اس دوران اللہ تعالیٰ نے ایک بھاری مصیبت سے میرے ایک بھاری سرمایہ کو محفوظ رکھا۔جبکہ دوسروں کے ایسے سرمائے ضائع چلے گئے۔ضائع ہونے کا موقع پیدا ہونے سے پہلے میرے ایک عزیز کو خیال آیا اور اس نے وہ خطیر رقم حاصل کر لی۔گویا اس مسجد کی تعمیر کی برکت سے وہ ضائع ہونے سے محض فضل خداوندی سے محفوظ رہی۔میاں محمد صدیق بانی صاحب نے کمال انکساری سے بتایا کہ میں قلبی سکون سے کہہ سکتا ہوں کہ اس مسجد کی تعمیر پر جو کچھ اخراجات بھی مجھے کرنے پڑے ان کی وجہ سے مجھے کوئی کاوش نہیں ہوئی۔یہ احسان باری تعالیٰ ہے کہ اُس نے میرے نام سے کام خود ہی کر دیا۔141 66 ۲۸ اکتوبر ۱۹۶۶ء کو صبح آٹھ بجے سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ابراہیمی دعاؤں کے ساتھ خُدا کے اس نئے گھر کا اپنے دست مبارک سے سنگ بنیا درکھا۔اس مبارک تقریب میں، جو بروز جمعہ آٹھ بجے صبح عمل میں آئی۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد صحابہ مسیح موعود علیہ السلام، صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید انجمن احمدیہ کے ناظران اور وکلاء حضرات متعدد ڈویژنل امراء صاحبان، ربوہ کے تعلیمی اداروں کے سربراہان واساتذہ، جامعہ