تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 587
تاریخ احمدیت۔جلد 23 587 سال 1966ء کریں کہ ان کے خاندان کا کوئی بچہ ایسا نہ رہے جو قرآن کریم با ترجمہ نہ جانتا ہو۔اگر آپ اس میں کامیاب ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمتوں کی وارث ہوں گی۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین مرزا ناصر احمد خلیفہ امسح الثالث 138 مسجد اقصیٰ ربوہ کی بنیاد حضرت مصلح موعود کی مبارک دعاؤں کے طفیل ربوہ کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہورہا تھا۔اور ۲۷ مساجد تعمیر ہو چکی تھیں۔مگر چند سالوں سے پوری شدت سے یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ مسجد مُبارک مرکزی اور جماعتی تقریبات کے لئے ناکافی ہے۔اس ضرورت کے پیش نظر ربوہ کی مقامی جماعت (ان دنوں ربوہ کی مقامی انجمن کے صدر عمومی مولوی محمد صدیق صاحب مرحوم سابق انچارج خلافت لائبریری تھے ) کی تجویز پر مجلس مشاورت ۱۹۶۴ ء نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں سفارش کی وو ر بوہ میں جامع مسجد کی تعمیر کی اجازت مرحمت فرمائی جائے۔۶۵ ۱۹۶۴ء میں ایک لاکھ روپیہ مشروط بہ آمد رکھا جائے۔“ حضور نے یہ سفارش منظور فرمائی جس پر صدرانجمن احمدیہ نے نظارت اصلاح وارشاد کے سپر د یہ خدمت فرمائی۔جس کے ناظر ان دنوں حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس تھے۔نظارت کی طرف سے ۷ جولائی ۱۹۶۴ء کو الفضل میں پہلی بار چندہ کی اپیل شائع کی گئی تو کئی مخلصین جماعت نے حسب استطاعت اس مد میں رقوم بھی بھجوانا شروع کر دیں۔۲۱ جولائی ۱۹۶۴ء کو صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدرصد رانجمن احمدیہ کی طرف سے بذریعہ فون یه پیغام دفتر نظارت اصلاح وارشاد کو ملا کہ اب چندہ کی اپیل چھپوانے کی ضرورت نہیں مطلوبہ رقم کا انتظام ہو گیا ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت کا ایک چمکتا ہوا نشان تھا۔بات یہ ہوئی کہ سلسلہ کے ایک نہایت مخلص اور مخیر بزرگ حضرت میاں محمد صدیق صاحب بانی کے دل میں جناب الہی کی طرف سے یہ تحریک ہوئی کہ خدا کے اس گھر کی تعمیر کا تمام خرچ وہ خود برداشت کریں۔چنانچہ اُنہوں نے صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے ذریعہ حضرت مصلح موعود کی خدمت میں درخواست کی کہ اس