تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 586
تاریخ احمدیت۔جلد 23 586 سال 1966ء اور جن کا رسول اللہ ﷺ نے عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔تقویٰ کوئی تعویذ نہیں کہ جس کو بار بار دہرانے سے انسان میں تبدیلی آجائے۔بس اس کے لئے قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی باریک راہوں پر چلنے کی ضرورت ہے۔حضور نے واضح فرمایا کہ خدام الاحمدیہ کے وہی کام عمل صالح ہو سکتے ہیں۔جو خلیفہ وقت نے بتائے ہوں۔اور پھر وہ خلیفہ وقت کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق کئے جائیں۔اس لحاظ سے خدام کا لائحہ عمل وہی ہے۔جو حضرت مصلح موعود نے ان کے لئے مقر فر مایا اور آپ کے بعد جو بھی خلیفہ ہو وہ مقرر کرے۔حضور نے فرمایا میرا آج کا بلکہ ہمیشہ کا پیغام یہ ہے کہ اپنے نفسوں پر اس موت کو وارد کرو۔جسے ہمارے بزرگوں نے اپنے نفسوں پر وارد کیا تھا۔انہوں نے ہمہ نیستی اور تذلیل کا جامہ اسی طرح پہنا تھا کہ وہ اپنی بزرگی کو اخفا میں رکھتے تھے۔وہ خودی و خود نمائی اور خود آرائی و خودروی سے کوسوں دور تھے۔جب تک ہم نیستی اور تذلل اختیار کر کے اپنے نفسوں پر ہزاروں موتیں وارد نہیں کرتے اس وقت تک اسلام کے غلبہ اور اس کی فتح کا دن جسے دیکھنے کے ہم خواہش مند ہیں نہیں آسکتا۔امسال کے اجتماعات کو یہ خاص اہمیت حاصل ہے کہ یہ خلافت ثالثہ کے نئے مبارک و مقدس دور میں منعقد ہونے والے پہلے اجتماع ہیں اور پھر ان کا انعقاد ایک سال کے وقفہ کے بعد عمل میں آیا ہے کیونکہ گزشتہ سال ملک میں ہنگامی حالات کی وجہ سے اجتماعات منعقد نہیں ہو سکے تھے۔مزید برآں ان اجتماعات کو ایک اور خصوصیت بھی حاصل ہے اور وہ یہ کہ امسال خدام کا اجتماع چھ سال کے وقفہ کے بعد از سر نو قدیمی طریق کے مطابق کیمپ کی طرز پر خدام کے نصب کردہ اپنے خیموں میں منعقد کیا گیا ہے۔قبل ازیں ۱۹۶۱ء سے ۱۹۶۴ ء تک سالانہ اجتماعات رہائشی خیموں کے بغیر ہی جلسہ گاہ کی طرز پر شامیانوں اور قناتوں سے تیار کردہ مقام اجتماع میں منعقد ہوتے رہے تھے۔اسی طرح اطفال کے اجتماع کے انعقاد کا نظام امسال پہلی بار ایوان محمود خدام الاحمدی کے زیراتمیر بالا میں کیا گیاہے۔137- حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا پیغام لجنہ اماءاللہ نوشہرہ کے زیاں کے نام نوشہرہ کے زیاں ضلع سیالکوٹ کی لجنہ اماءاللہ نے حضور سے اپنی مجلس کے لئے پیغام بھجوانے کی درخواست کی تھی۔جس پر حضور نے از راہ شفقت جو پیغام دیا اس کا متن درج ذیل ہے۔لجنہ اماءاللہ پر اہم ترین ذمہ داری یہ عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بات کی کوشش