تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 577
تاریخ احمدیت۔جلد 23 پر لگا دیا گیا۔“ 577 سال 1966ء یہ کام جس کی طرف حضرت مصلح موعود نے اشارہ فرمایا تحریک آزادی کشمیر کی خدمت تھی۔جو سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کی حیثیت سے آپ کو سونپی گئی اور جسے آپ نے آخر دم تک نہایت کامیابی سے نبھایا۔علاوہ ازیں آپ نے مشہور مقدمہ بہاولپور (اس مقدمہ کا ذکر تاریخ احمدیت جلدے میں موجود ہے ) میں جماعت احمدیہ کی طرف سے ترجمانی کا حق ادا کر دیا۔آپ جب لندن تشریف لے گئے تو اپنے پیچھے نو بیاہتا دلہن ( محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ بنت حضرت خواجہ عبید اللہ امرتسری ) کو چھوڑ گئے۔اور دس سال تک اپنی بیوی اور بچوں سے جدارہ کر قربانی کا ایک مثالی نمونہ اور معیار قائم کیا جو آئندہ نسلوں کے لئے ہمیشہ مشعل راہ کا کام دے گا۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے مولا نائٹس صاحب اور آپ کی بیگم کی اس عظیم قربانی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:۔” ہمارے کئی مبلغ ایسے ہیں جو دس دس پندرہ سال تک بیرون ممالک میں فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہے اور وہ اپنی نئی بیاہی ہوئی بیویوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ان عورتوں کے اب بال سفید ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے اپنے خاوندوں کو کبھی یہ طعنہ نہیں دیا کہ وہ انہیں شادی کے معا بعد چھوڑ کر لمبے عرصہ کے لئے باہر چلے گئے تھے۔ہمارے ایک مبلغ مولوی جلال الدین شمس صاحب ہیں۔وہ شادی کے تھوڑا عرصہ بعد ہی یورپ تبلیغ کے لیے چلے گئے تھے۔ان کے واقعات سن کر بھی انسانوں کو رقت آجاتی ہے۔ایک دن اُن کا بیٹا گھر آیا اور اپنی والدہ سے کہنے لگا ”اماں! ابا کسے کہتے ہیں؟ سکول میں سارے بچے ابا ابا کہتے ہیں ہمیں پتہ نہیں کہ ہمارا ابا کہاں گیا ہے؟ کیونکہ وہ بچے ابھی تین تین ، چار، چار سال کے ہی تھے کہ شمس صاحب یورپ تبلیغ کے لئے چلے گئے۔اور جب وہ واپس آئے تو وہ بچے سترہ سترہ ، اٹھارہ اٹھارہ سال 166 کے ہو چکے تھے۔جب شمس صاحب انگلستان سے واپس تشریف لائے تو حضرت مصلح موعود نے اس پیشگوئی کہ سورج مغرب سے طلوع کرے گا ، کا ایک بطن آپ کو بھی قرار دیا۔چنانچہ آپ نے فرمایا :۔رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی مغرب سے طلوع شمس کا ایک بطن اس وقت شمس صاحب کے ذریعہ پورا ہوا جبکہ وہ مغرب سے آئے۔129 66