تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 578 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 578

تاریخ احمدیت۔جلد 23 578 سال 1966ء سید نا حضرت خلیفہ امسح الثالث نے آپ کے سانحہ ارتحال پر ایک نہایت لطیف اور بصیرت افروز خطبہ ارشاد فرمایا جس میں حضرت مولانا شمس کی عظیم شخصیت اور آپ کی خدمات جلیلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔” جب بعض بزرگ تر ہستیاں جماعت سے جدا ہو ئیں تو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے جماعت میں سے ایسے لوگوں کو کھڑا کر دیا کہ جنہیں گومر نے والوں کی زندگی میں وہ مقام وجاہت مرتبہ اور علم حاصل نہ تھا جو مر نے والوں کا تھا۔لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے انہیں پہلوں کا سا مقام وجاہت مرتبہ اور علم دے دیا۔پس الہی سلسلے اپنے بزرگوں کے وصال کے بعد ان سے جدا ہوکر صدمہ اور غم تو محسوس کرتے ہیں لیکن یہ درست نہیں (اگر کوئی نا سمجھ خیال کرے ) کہ کسی جانے والے کے بعد اس کی وجہ سے الہی سلسلے کے کام میں کوئی رخنہ پیدا ہوسکتا ہے یا رخنہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ اپنے قائم کردہ سلسلہ کو بقا اور زندگی عطا کرنا چاہتا ہے،اس وقت تک ایک شخص کے اعمال پر فنا وارد کرنے کے بعد وہ دوسرے افراد کھڑے کر دیتا ہے جو اسی قسم کے اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور اپنے لئے اور جماعت کیلئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے ہوتے ہیں۔ہمارے بزرگ ہمارے بھائی ہمارے دوست مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس ہم سے جدا ہوئے۔خدا کی رضا کی خاطر انہوں نے اپنی زندگی کو گزارا۔اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اپنی وفات کے بعد خدا تعالیٰ کی ابدی رضا کو حاصل کیا۔ان کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ خود اس سلسلہ میں ایسے آدمی کھڑے کرے گا جو اسی خلوص کیسا تھ اور جو اسی جذ بہ فدائیت کے ساتھ اور جو اسی نور علم کے ساتھ اور جو اسی روشنی فراست کے ساتھ سلسلہ کی خدمت کرنے والے ہوں گے جس کے ساتھ مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس نے سلسلہ کی خدمت کی تھی۔پس ہمارے دل اپنے ایک دوست کی جدائی کی وجہ سے بے شک دُکھی ہیں کیونکہ انسان کی فطرت ہی ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ جانے والے کے فراق کے نتیجہ میں دکھ محسوس کرتا ہے لیکن جہاں تک سلسلہ احمدیہ کا تعلق ہے ایک شمس غروب ہوا