تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 572
تاریخ احمدیت۔جلد 23 572 سال 1966ء الوداعی پارٹی میں احباب جماعت کے علاوہ بعض مسیحی اور یہودی بھی شامل ہوئے تھے۔انہوں نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا تھا۔اور مولانا کو خراج تحسین ادا کیا تھا۔خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مولانا شمس نے بلاد عر بیہ میں نہایت مستحکم بنیاد اشاعت اسلام اور تبلیغ احمدیت کی قائم کی ہے۔جزاہ اللہ احسن الجزاء ورفع درجته في الجنة العلياء انگلستان میں تبلیغ دین 66 یکم فروری ۱۹۳۶ء کو آپ انگلستان مشن کا چارج سنبھالنے کے لئے تشریف لے گئے جہاں آپ نے تقریبا گیارہ برس تک امام مسجد فضل لندن کی حیثیت سے انتہائی محنت اور جانفشانی سے کام کیا۔آپ کے ذریعہ متعدد انگریز اور ایشیائی اصحاب احمدیت میں داخل ہوئے۔آپ کی زبر دست تبلیغی جد و جہد پر حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد نے مندرجہ ذیل الفاظ میں خراج تحسین ادا کیا:۔میں اپنے تجربہ کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ جتنے کارکنوں کے ساتھ یہاں مجھے کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ان سب میں گو اپنے اپنے رنگ میں بہت سی خوبیاں ہیں لیکن جوش تبلیغ کے لحاظ سے مولانا شمس سب سے بڑھے ہوئے ہیں انہیں ہمیشہ یہی فکر ہے اور اس کام میں وہ مستغرق رہتے ہیں۔نو مسلموں کی تعلیم و تربیت کا بھی انہیں خاص اہتمام ہے۔ابھی چند دن ہوئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ملفوظات میں شائع ہوا کہ حضور کو یہ شوق تھا کہ گھر بہ گھر پھر کر لوگوں کو دعوت حق پہنچائی جائے چنانچہ مولانا شمس صاحب اور شیخ احمد اللہ صاحب ان الفاظ کو پڑھ کر ایک دن سارا وقت اس طرح پھر کر تبلیغ کرتے رہے۔انگلستان جیسے ملک میں یہ آسان کام نہیں۔دوسری جنگ عظیم کی ہولنا کیوں کی وجہ سے قیام انگلستان کا طویل عرصہ بہت مہیب اور خوفناک تھا جسے آپ نے انتہائی صبر اور بہادری سے گزارا اور قیامت خیز بمباری کے دوران مجاہدانہ شان کے ساتھ اسلام کی اشاعت میں مصروف رہے۔مختلف بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے، ہائیڈ پارک میں تقاریر اور مناظرے کئے ، شہزادہ امیر فیصل وائسرائے آف مکہ اور دیگر عرب ممالک کے نمائندوں کے اعزاز میں پارٹی دی اور مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ہدیہ پیش کیں۔جس کا انگلستان پریس میں بھی چرچا ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک خواہش کی تکمیل میں ایک لاکھ کی تعداد میں قبر مسیح کے متعلق اشتہار شائع کیا۔122۔121 766