تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 573
تاریخ احمدیت۔جلد 23 573 سال 1966ء بشپ آف گلاسٹر، شاہ جارج، کنگ پیٹر آف یوگوسلاویہ، لارڈنگٹن ، پروفیسر مارگولیتھ وغیرہ بہت سی اہم شخصیات تک پیغام حق پہنچایا۔124 انگلستان کی مختلف سوسائٹیوں میں اثر ونفوذ پیدا کیا ،ورلڈ کانگریس آف فیتھر کے اجلاس کی صدارت کی نیز اس کے سالانہ اجلاس میں ایک مقالہ پڑھا جس پر کانگریس کے پریذیڈنٹ سرفرانس سینگ ہینڈ نے کونسل کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔آپ کا ایک لیکچر نیو کالج آکسفورڈ میں سیاسیات ہند پر بھی ہوا۔مسٹرفلپس پریذیڈنٹ تھے۔انہوں نے صدارتی ریمارکس میں کہا کہ یہ تقریر ان تمام تقریروں سے جو ہم سن چکے ہیں اچھی اور خوب مرتب ہے۔اور ہندوستان کی اصل حالت اور اس کے حل کو پیش کرتی ہے۔آپ کے زیر انتظام سات غیر ملکی زبانوں میں تراجم قرآن کا عظیم الشان کام بھی ہوا۔آپ دس سال سے زائد عرصہ تک دیار مغرب میں کامیاب قلمی و لسانی جہاد کے بعد ۱۵ اکتوبر ۱۹۴۶ء کو قادیان پہنچے۔حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ آپ کے ذریعہ سے حدیث نبوى تطلع الشمس من مغربها کے ایک پہلو کا ظہور ہوا۔حضور نے اس رائے کا اظہار ایک پارٹی کے دوران کیا۔جو آپ کے اعزاز میں جامعہ احمدیہ قادیان کی طرف سے دی گئی تھی۔125 جناب بشیر احمد خان صاحب رفیق سابق امام مسجد فضل لندن آپ کے سنہری دور انگلستان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔۱۹۵۹ء میں جب خاکسار انگلستان میں تبلیغ اسلام کے لئے منتخب ہوا تو حضرت مولانا نے متعد د نصائح فرما ئیں اور اپنے زمانہ تبلیغ کے چند واقعات بھی سنائے۔بعد میں ان سے با قاعدہ خط و کتابت کا سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا۔انگلستان آکر جتنے بھی پرانے دوستوں سے ملا ان سے یہ معلوم ہوا کہ انگلستان مشن کی تاریخ میں حضرت مولانا کا زمانہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔آپ نے تقاریر، مباحثوں، مناظروں اور تصانیف و مضامین کے ذریعہ یہاں کے علمی حلقوں میں جماعت احمدیہ کی شہرت کی دھوم مچادی۔اور یہ مبالغہ نہ ہوگا کہ جتنی تبلیغ آپ کے زمانہ امامت میں ہوئی اتنی کسی بھی اور امامت میں نہیں ہوئی۔حضرت مولانا یکم فروری ۱۹۳۶ء کو قادیان دارالامان سے روانہ ہوئے اور ۲۸ مارچ ۱۹۳۶ء کو لندن پہنچ گئے۔آپ کا قیام انگلستان میں ۱۰ را گست ۱۹۴۶ء تک رہا۔