تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 571
تاریخ احمدیت۔جلد 23 571 سال 1966ء قصوں سے نو تعلیم یافتہ لوگ بیزار ہیں۔وہ اس بات کو باور کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں کہ قرآن مجید کے حقائق و معارف ختم ہو گئے ہیں۔عقیدہ وہ قرآن مجید کو عالمگیر کتاب مانتے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن مجید کی صحیح تفسیر ان تک پہنچائی جائے۔پادریوں کے اعتراضات کے جواب ان کو بتائے جائیں۔مصر اور شام میں ہزاروں روحیں اس کی پیاسی ہیں۔مولانا شمس صاحب کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا علم دیا تھا۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تفسیری حقائق و معارف کو بیان کرنا آپ کا طریق کار تھا۔ان معارف کو سن کر ان ممالک کے تعلیم یافتہ لوگ عش عش کر اُٹھتے ہیں۔میں نے جب رسالہ البشریٰ جاری کیا اس کے تفسیری حصہ سے بہت سے غیر احمدی نوجوانوں نے بھی خاص دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔مولا نائنٹس کا درس قرآن اپنے اندر خاص رنگ رکھتا تھا۔کہا بیر کے احمدی تو مبلغین سلسلہ سے روزانہ بعد نماز مغرب تغییر قرآن کریم سننے کے عاشق تھے اور یہ چاٹ ان لوگوں کو شروع میں مولانا شمس صاحب نے ہی لگائی تھی۔فلسطین کے ابتدائی مبلغین کھانے وغیرہ کا انتظام خود کرتے تھے۔سالن خود پکا لیتے تھے اور روٹی زار سے پکی پکائی مل جاتی تھی۔مولانا شمس صاحب کا بھی یہی دستور تھا۔مولانا کا طریق زندگی بہت سادہ تھا ، ہر قسم کے تکلف سے آپ دور تھے۔جو میسر آتا تھا شکر سے تناول فرماتے تھے۔مجھے فلسطین کے بعض دوستوں نے بتایا تھا کہ بعض اوقات کثرت کار کی وجہ سے مولا نا کھانا کھانا بھول جاتے تھے اور مسلسل کام کرتے رہتے تھے۔کچھ عرصہ تنگی کے ایام بھی آئے تھے۔فلسطین کے مخلصین مقدور بھر مولانا کی اور دوسرے مبلغین کی خدمت کرتے رہتے تھے۔وہاں کا دستور ہے کہ گھر پر ہر آنے والے کو قہوہ ضرور پیش کیا جاتا ہے جو شروع میں مبلغین خود ہی تیار کرتے تھے۔وہاں آنے والے دوستوں کا بھی یہی طریق ہوتا تھا کہ وہ ملاقات کے لئے آتے ہوئے کوئی پھل وغیرہ بطور تحفہ لاتے تھے جو سب حاضرین مل کر کھاتے تھے۔اس طرح سے اخوت اور مودت بڑھتی تھی اور یہ چھوٹی سی پاکیزہ برادری ترقی کرتی رہتی تھی۔کہا بیر کے احباب زمیندار ہیں۔ان کے انجیروں کے درخت بہت مزہ دیتے تھے۔مسجد محمود کے قریب پہاڑی پر یہ درخت اپنی شہد سے بھری ہوئی سفید انجیروں کے ساتھ بہت بھلے معلوم ہوتے تھے اور کھانے کا بہت لطف ہوتا تھا۔چارج دینے سے پہلے مولانا میری موجودگی میں جتنے دن حیفاو کہا بیر میں رہے خوب بے تکلفی رہی اور دعوتوں کا سلسلہ جاری رہا۔کبھی کبھی انجیروں کے پودوں تلے بھی دعوت ہوتی تھی۔مولانا کی